BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 May, 2006, 18:58 GMT 23:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہالی وڈ کے پیچھے بالی وڈ

ہنومان
گزشتہ سال ہنومان نامی اینیمیٹڈ فلم ریلیز کی گئی تھی
انڈیا کے اداکارہ ایک امریکی ڈائریکٹر کی اینیمیٹڈ فلم کے لیئے پس پردہ اپنی آوازیں دیں گے۔

اینیمیٹڈ فلم سیریز جیسے ’سپائیڈر مین‘ اور ’دی سٹارشپ ٹروپرز‘ کے ڈائریکٹر وینسٹ مائیکل ایڈورڈ کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ اس سال کے آخر تک فلم ریلیز کرنے کا ارادہ ہے۔

یہ فلم پرسیپٹ پکچر کمپنی بنا رہی ہے۔ ابتدائی طور پر اداکار فلم میں اپنی آوازیں دینے کے لیئے تیار نہیں تھے۔

ایڈورڈ کا کہنا تھا کہ پہلے پہل اداکار ان کی فلم کو بی کلاس فلم خیال کرکے اس میں اپنی آوازیں دینے کو تیار نہیں تھے تاہم جیسے انہیں اس بات کا ادراک ہوا کہ فلم کی اہمیت کیا ہے اور اس کی مدد سے ان کے اندر چھپے ٹیلنٹ کو باہر آنے کا مزید موقع ملے گا تو انہوں نے اس فلم کے لیئے اپنی آوازیں دینے پر رضا مندی ظاہر کر دی۔

ایڈورڈ کا کہنا تھا کہ ان کے عملے کے تمام اراکین انڈین ہیں اور ان کا کام اور ان میں چھپا ٹیلنٹ کسی طرح بھی امریکی اداکاروں سے کم نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی اداکار بھرپور رہنمائی میں اچھا کام کرتے ہیں لیکن انہیں دنیاکی مارکیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔

ہالی وڈ میں یہ روایت موجود ہے یعنی اداکار ایسی فلموں کے لیئے پس پردہ اپنی آوازیں دیتے ہیں مگر بالی وڈ میں ابھی اس قسم کی فملوں کے لیئے پس پردہ آوازیں دینے کی کوئی خاص روایت نہیں ہے۔

بالی وڈ کے اداکار شاہ رخ خان اور ان کے بیٹے آریان نے دو ہزار چار میں ڈزنی کی فیچر فلم ’دی انکریڈیبلز‘ میں اپنی آوازیں دی تھیں۔

گزشتہ سال انڈیا میں ’ہنومان‘ نام کی ایک اینیمیٹڈ فلم ریلیز کی گئی تھی جس نے باکس آفس پر کافی اچھا بزنس کیا تھا۔

انڈیا کی اینیمیٹڈ فلم انڈسٹری نے دنیا بھر کے کئی بین الاقوامی پروڈکشن ہاؤسز اور اینٹرٹینمنٹ کمپنیوں جسیے والٹ ڈزنی وغیرہ کے ساتھ اچھا کام کم قیمت پر کرکے اپنے آپ کو منوایا ہے۔

امریکہ میں بنائی جانے والی اینیمنیٹڈ فلم کے مقابلے میں انڈیا میں بنائی جانے والی فلم ساٹھ فیصد کم خرچ پر بنائی جا رہی ہیں۔

انڈیا کی میڈیا انڈسٹری کے بارے میں فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سالانہ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ دو ہزار نو تک میڈیا انڈسٹری کا ٹرن اوور 42 بلین روپے تک پہنچ جائے گا۔ اس وقت ٹرن اوور 12 بلین روپے ہے۔

ممبئی کا کریسٹ اینیمیشن سٹوڈیو کئی بین الاقوامی پروڈیوسر کے ساتھ کام کر چکا ہے۔

پرسیپٹ پکچر کمپنی کے بزنس چیف چترا سبھرامینیم

مذکورہ کارٹون فلم ہندؤوں کے ایک دیوتا کے بارے میں ہے جو بچوں اور خاص طور پر والدین کوپسند آئے گی جن کے مطابق یہ فلم ہندو دیومالائی کہانیاں بچوں کو سمجھانے میں مدد دے گی۔

پرسیپٹ پکچر کمپنی کی بزنس چیف چترا سبھرامینیم کا کہنا ہے کہ انہیں فلم کی ڈسٹری بیوشن کے سلسلے میں مسئلے کا سامنا تھا کیونکہ کوئی بھی ٹو ڈی فلم کی ڈسٹری بیوشن کا کام لینے کو تیار نہیں تھا۔

فلم نقاد اندو میرانی کا کہنا ہے کہ انڈیا میں لوگوں کے لیئے اینیمیٹڈ فلم دیکھنا ایک منفرد تجربہ ہو گا۔ لوگ اچھی کہانی کی کی تلاش میں
رہتے ہیں چاہے وہ بالی وڈ کی کوئی فلم ہو یا کوئی اینیمنیٹڈ فلم۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد