مائیکل جیکسن مالی مشکلات میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائیکل جیکسن کو دو سو ملین ڈالر کا واجب الادا قرضہ ادا کرنے کے لیے آئندہ منگل تک کی آخری مہلت دی گئی ہے۔ اگر وہ یہ رقم وقت پر ادا نہ کر سکے تو بیٹلز کے کیٹلاگ میں کی گئی سرمایہ کاری میں انہیں پچاس فیصد سرمایہ کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ جیکسن نے1985 میں ایک کیٹلاگ کے حقوق اڑتالیس ملین ڈالر میں خریدے تھے اور اب اس کی مالیت پانچ سو ملین ڈالر تک جاپہنچی ہے۔ یہ کیٹلاگ بنیادی طور پر پاپ بینڈ بیٹلز نے شروع کیا تھا۔ مائیکل کو یہ قرضہ منگل تک ادا کرنا تھا۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو متعلقہ ادارے کو اختیار ہوگا کہ وہ کیٹلاگ کا پچاس فیصد ضبط کرلیں۔ جیکسن کے وکلاء بھرپور کوششیں کررہے ہیں کہ مائیکل جیکسن قرضہ ادا کرکے مالی خسارے سے بچ سکیں۔ ان کے ایک وکیل برنٹ آئس کف نے کہا ہے کہ وہ قرضہ وصول کرنے والی کمپنی پر زور دے رہے ہیں کہ جیکسن کو یہ رقم ادا کرنے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ بیٹلز کے اس کیٹلاگ کی ملکیت مشترکہ طور پر جیکسن اور سونی کمپنی کے پاس ہے۔ 4000 گانوں پر مشتمل اس کیٹلاگ میں بیٹلز کی موسیقی کی 200 سے زائد دھنیں ہیں جنہیں بہت مقبول دھنیں مثلاً یسٹرڈے وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اس میں موسیقی کی دنیا کی کئی اور نامور شخصیات کے کام بھی شامل ہیں مثلاً باب ڈائلن کا بلوئنگ ان دی ونڈ اور جونی مچل اور سٹیوی نکس کے کئی مشہور زمانہ گانے۔ اسی سال کے آغاز میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے عدالتی کیسوں کے دوران سامنے آیا تھا کہ جیکسن نے بھاری قرضے لے رکھے ہیں۔ عدالت میں نائب ڈسٹرکٹ اٹارنی کا کہنا تھا کہ جیکسن کو خرچ کرنے کا مرض ہے۔ ان پر اس وقت تین سو ملین ڈالر کے قرضے تھے جبکہ انہیں مزید چار سو ملین ڈالر بھی مختلف مدوں میں ادا کرنے تھے۔ | اسی بارے میں لینے کے دینے پڑ گئے30 October, 2005 | فن فنکار زیادتی کیس:مائیکل کامشکل دور18 September, 2005 | فن فنکار قطرینہ متاثرین کیلیےمائیکل کاگانا07 September, 2005 | فن فنکار مائکل جیکسن دبئی میں31 August, 2005 | فن فنکار مائیکل جیکسن کی مقبولیت میں کمی 30 July, 2005 | فن فنکار جیکسن کوطرز زندگی بدلنا ہوگا15 June, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||