فلموں میں سیکس اور منشیات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی تحقیق کے مطابق فلموں میں سیکس اور منشیات کے استعمال کو بہت غیر ذمہ دارانہ طریقے سے دکھایا جاتا ہے۔ جرنل آف دی رائل سوسائٹی آف میڈیسن میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق سیکس کے مناظر دیکھانے والی ترپین فلموں میں سے صرف ایک فلم ’پریٹی وومن‘ میں کونڈوم کا ذکر کیا گیا۔ تحقیق کرنے والے ڈاکٹر گوناسیکیرا نے سرِ فہرست 200 فلموں میں سیکس اور منشیات کا استعمال دکھائے جانے کا تجزیہ کیا ہے۔ ان فلموں میں صرف فلم ’پریٹی وومن‘ میں ایک جگہ پر جولیا رابرٹس اداکار رچرڈ گیئر کو کہتی ہیں کہ ان کے پاس کونڈومز کے انتخاب کا حق ہے۔ لیکن اس کے علاوہ اٹھانوے فیصد دیگر سیکس کی فلموں میں حمل سے بچنے کے لیے کوئی بھی تدبیر نہیں کی گئی۔ نہ ہی یہ دکھایا گیا کہ غیر محفوظ سیکس کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں جیسا کہ ایچ آئی وی انفیکشن وغیرہ۔ بھنگ اور دوسری منشیات کا استعمال فلموں میں شراب اور تمباکو سے کم دکھایا گیا ہے۔ لیکن پھر بھی ان کے استعمال کے کوئی خاص مضر اثرات نہیں دکھائے گئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||