جیکسن کٹہرے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہانی 18 نومبر 2003 کو اس وقت منظر عام پر آئی جب پولیس سے مائیکل جیکسن کے گھر کی تلاشی کی اور ان کے وکلا نے بتایا کہ پچھلے دو ماہ سے مائیکل جیکسن کے خلاف ایک بارہ سالہ بچھ کے ساتھ جنسی زیادتی کے سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔ 19 نومبر 2003 مائیکل جیکسن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کردئیے گئے۔ 20 نومبر 2003 مائیکل کو گرفتار کرنے کے بعد تین ملین ڈالر کی ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ 18 دسمبر 2003 مائیکل کے خلاف باقاعدہ الزامات عائد کردئیے گئے۔ 25 دسمبر2003 الزامات کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں مائیکل جیکسن نے ان سے انکار کیا اور بتایا کہ پولیس نے ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جس سے ان کا کندھا اتر گیا۔ 16 جنوری2004 مقدمے کی پہلی سماعت پر بیس منٹ کی تاخیر سے پہنچنے کے بعد مائیکل جیکسن نے باقاعدہ طور پر تمام الزامات سے انکار کیا۔ 21 اپریل 2004 گرینڈ جیوری نے فیصلہ کیا کہ مائیکل جیکسن کے خلاف باقاعدہ مقدمہ کی سماعت کی جاے گی۔ 25 اپریل 2004 مائیکل جیکسن نے اپنے دفاع کے لئے اپنے وکیل تبدیل کردئیے۔ 30 اپریل2004 مائیکل نے اپنے خلاف لگائے گئے تازہ الزامات سمیت تمام دس چارجز سے انکار کیا۔ 17 ستمبر2004 مائیکل جیکسن اور ان کے اہل خانہ نے الزام لگانے والے بچے کی والدہ کی مقدمے سے پہلے دی جانے والی گواہی سنی۔ 4 دسمبر 2004 پولیس نے مائیکل جیکسن کی رہائش گاہ نیور لینڈ رینچ پر ایک بار پھر چھاپہ مارا۔ 30 جنوری 2005 مائیکل جیکشن نے اپنی ویب سائٹ پر ویڈیو پیغام نشر کیا جس میں غیر جانبدار مقدمے کی سماعت کی اپیل کی۔ 15 فروری 2005 مائیکل جیکسن کو فلو کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا اور مقدمے کی سماعت کو موخر کردیا گیا۔ 28 فروری 2005 مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہوا اور استغاثہ اور دفاع کے وکلا نے اپنے ابتدائی بیانات ریاکرڈ کروائے۔ 9 مارچ2005 پندرہ سالہ بچہ، گوین ارویزو، جس نے مائیکل جیکسن پر الزامات لگائے تھے، نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||