جیوری دستاویزی فلم دیکھے گی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائیکل جیکسن پر قائم مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے مارٹن بشیر کی دستاویزی فلم ’لِونگ ود مائیکل جیکسن‘ کو جیوری کو دکھانے کا حکم دیا ہے۔ اس متنازعہ فلم کے ایک حصے میں مائیکل جیکسن نے اپنی رینچ پر لڑکوں کو اپنے کمرے میں ساتھ سلانے کی حرکت کا دفاع کیا ہے۔ جج نے کہا ہے کہ فلم کا جو حصہ برطانوی ٹی وی پر دکھایا گیا ہے اسے جیوری کو دکھایا جائے نہ کہ وہ فلم جس میں اخبار نویسوں کی گفتگو بھی شامل ہے۔ مائیکل جیکسن کے وکیل نے جیوری کو اس فلم کے دکھانے کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ برطانوی صحافی کی یہ فلم تدوین شدہ ہے اور یہ ایک ناقابلِ اعتبار ثبوت ہے۔ چھیالیس سالہ مائیکل جیکسن اپنے اوپر عائد کردہ بچوں سے جنسی زیادتی کے دس الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ایک اور حکم میں جج نے یہ بھی کہا ہے کہ اشتعال انگیز مناظر اور برہنہ بچوں کی تصاویر بھی جیوری کو دکھائی جائیں۔ وکلائےصفائی نے اس معاملے میں مو قف اختیار کیا تھا کہ استغاثہ اس بات کو ثابت نہیں کر سکا ہے کہ یہ تمام مواد مائیکل جیکسن کی ملکیت ہے کیونکہ جس جگہ سے یہ مواد پکڑا گیا تھا وہاں ستر کے قریب افراد کو رسائی حاصل تھی۔ تاہم وکلائےصفائی کو ایک کامیابی اس شکل میں حاصل ہوئی ہے کہ جج کے حکم کے مطابق مائیکل پر الزام لگانے والے فرد اور اس کے بھائی کو عدالت میں سب کے سامنے گواہی دینا ہوگی۔ اس سے پہلے استغاثہ کا کہنا تھا کہ کھلے عام گواہی کی صورت میں گواہ دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے دستاویزی فلم کے خالق مارٹن بشیر کو گواہی نہ دینے سے بھی روک دیا ہے۔ تاہم وہ کٹہرے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے سے انکار کر سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||