مائیکل جیکسن عدالت چلے آئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سٹار مائیکل جیکسن کیلیفورنیا کی ایک عدالت میں پیش ہوئے ہیں جہاں اس بچے کی ماں نے اپنا بیان دیا ہے جس کے ساتھ زیادتی کرنے کا الزام عالمی شہرت یافتہ گلوکار پر لگایا گیا ہے۔ مقدمے کی اصل کارروائی شروع ہونے سے پیشتر ابتدائی سماعت کے لیے جب مائیکل جیکسن اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ عدالت میں پہنچے تو ان کے پرستاروں نے ان کو خوش آمدید کہا۔ جعمہ کو مائیکل جیکسن کا عدالت میں آنا ضروری نہیں تھا لیکن وہ اپنے وکلاء کی کارگزاری دیکھنے کی خاطر عدالت چلے آئے۔ عدالت میں بچے کی ماں نے بتایا کہ اسےاور اس کے گھر والوں کو مائیکل جیکسن کے عملے نے ’قیدی‘ سا بنا کر رکھا ہوا تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ یہ الزام ختم ہو جائے۔ تاہم مائیکل جیکسن بچے کے ساتھ زیادتی کے اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔ توقع ہے کہ اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت اگلے سال جنوری میں شروع ہوگی۔ عدالت کے باہر مائیکل جیکسن کے وکیلوں کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کو افسوس ہے کہ ماضی میں ایسے الزامات لگنے کے بعد انہوں نے عدالت سے باہر معاملہ طے کرنے کی خاطر پیسے ضائع کیے حالانکہ وہ اب یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس وقت بھی ان مقدمات کا شد و مد سے سامنا کرنا چاہیئے تھا۔ عدالت میں مائیکل جیکسن کے علاوہ ان کی بہن اور بھائی بھی آئے اور ان تمام نے سفید رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔ جب بچے کی ماں نے بیان دینا شروع کیا تو چھتیس سالہ مائیکل جیکسن ان کی شکل دیکھتے رہے۔ مائیکل جیکسن پر بچوں سے زیادتی کے دس الزامات ہیں اور ان کے وکیل چاہتے ہیں کہ عدالت ان کے خلاف لائے گئے چند ثبوت خارج کرے۔جمعہ کو مائیکل جیکسن کی حاضری ضروری نہیں تھی تاہم وہ اس لیے وہاں آئے تاکہ دیکھ سکیں کہ ان کے وکیل بچے کی ماں سے کس طرح سوال کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||