BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 December, 2004, 18:45 GMT 23:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خاموش پانی‘ ہندوستان میں

صبیحہ سومار
فلم کی ہدایت کارہ صبیحہ سومار
گزشتہ دنوں ں فلم’خاموش پانی‘ ہندوستان کے سنیما گھروں میں ریلیز کی گئی۔

فلم کے مرکزی خیال میں پاکستان کے موجودہ معاشرے میں خواتین کی صورت حال پر بحث کی گئی ہے۔

فلم کی ہدایت کار صبیحہ سومار کہتی ہیں کہ یہ صرف پاکستان کی کہانی نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے موجودہ حالات کی ایک تصویر ہے ۔ یہ فلم پوری دنیا میں عورتوں کے موجودہ حالات ، ان پر ہونے والےتشدد کے واقعات ، انکی سوچ ، انکی تمناؤں اور انکی مشکلات جیسے سنجیدہ پہلووں کو اجاگر کرتی ہے۔

بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات میں صجیہ سومار نے بتایا کہ اس فلم کی شروعات 1996 میں ہوئی تھی ۔ اس وقت صبیحہ ملک کی تقسیم کے دوران عورتوں پر ہونے والے ظلم و ستم اور تشدد پر تحقیق کر رہیں تھیں۔ تحقیق کے دوران کئی دلچسپ کہانیاں انکے سامنے آئيں ۔ انہیں کہانیوں کو بنیاد بنا کر انہوں نے’خاموش پانی‘ کی کہانی لکھی ۔

انہوں نے بتایا کہ 1979 میں پاکستان میں صدر جنرل ضیا کے دور اقتدار میں مذہبی شدت پسندی کو کافی فروغ ملا تھا جس کے نتیجے عورتوں کے حقوق بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ یہ دور اس فلم کا پس منظر ہے۔ اپنی فلم کے ذریعے وہ یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ عورت پر ظلم صرف اس دور میں ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ موجودہ حالات بھی اس دور سے مختلف نہیں ہیں۔

فلم کی کہانی سے متعلق صبیحہ نے بتایا کہ یہ فلم ایک ماں اور اسکے بیٹے کی کہانی ہے جو پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں’ چرخہ‘ میں رہتے ہیں۔ ماں کا تعلق تقسیم کے دور سے ہے اور اس کا بیٹا انتہا پسندی کی طرف جا رہا ہے۔ اس میں دو مختلف نظریات ، جس میں ایک طرف ماں " عائشہ" کے اعتدال پسند خیالات اور دوسری طرف تنگ نظری کی سیاست کی نمائدگی کرنے والے اس کے بیٹے سلیم ، کے درمیان ٹکراو کو پردے پر دکھایا گیا ہے۔

پاکستان میں اس فلم کو ریلیز نہ کر پانے کا سبب بتاتے ہوئے صبیحہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں اس طرح کی فلموں کے لۓ ڈسٹری بیوٹرز نہیں ہیں جس کی وجہ سے انہیں اس فلم کو ایک’اوپن تھیٹر‘ کے طور پر پاکستان کے چھوٹے شہروں ، قصبوں اور گاؤں میں لے جانا پڑا۔ جبکہ ہندوستان میں فلم کی ریلیز میں کوئی دقت نہیں پیش آئی۔

اپنی فلم میں ایک ہندوستانی اداکارہ " کرن کھیر " کو مرکزی کردار میں لینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صبیحہ نے کہا کہ اسکرپٹ لکھتے وقت انکے ذہن میں ایک بات صاف تھی کی اس رول کو وہی بخوبی ادا کر سکتا ہے جسکا تعلق کسی نہ کسی طرح تقسیم کے دور سے ہو۔ اور جب انکی ملاقات کرن کھیر سے ہوئ تو وہ عائشہ کے رول کے لۓ انہیں بالکل مناسب لگیں ۔ کرن کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو تقسیم ہند سے براہ راست متاثر ہوا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد