ٹرنر شو میں افغانستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آجکل لندن میں ٹرنر پرائز شو جاری ہے اور اس بار اس میں جو ویڈیو فلمیں زیر نمائش ہیں ان میں طالبان کے بعد کا افغانستان اور اسامہ بن لادن کے گھر کا دورہ شامل ہیں۔ ٹرنر شو کے بارے میں عام طور پر تنقید کی جاتی ہے کہ یہ سطحی اور اشتعال انگیز ہوتا ہے لیکن اس بار اس میں سنجیدہ موضوعات حاوی ہیں۔ آرٹسٹ جوڑے لینگلینڈ اور نکی بیل کا کام افغانستان میں طالبان کے زوال کے بعد ان کے افغانستان میں دو ہفتے قیام پر مبنی ہے۔ اس میں نمایاں چیز اسامہ بن لادن کے گھر کا دورہ ہے جو انٹرایکٹو ہے جس میں فوٹوز کو کمپیوٹر کی فوٹیج کے ساتھ ملایا گیا ہے تاکہ دیکھنے والا اس ویران جگہ میں اپنی مرضی سے گھوم پھر سکے۔ اس کام سے ہمارے تجسس میں تو اضافہ ہوتا ہے لیکن معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور یہ خیال آتا ہے کہ ہم کچھ جگہوں پر ان کے اہم ہونے کا جو بوجھ لاد دیتے ہیں وہ ان جگہوں کے لیے اٹھانا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لینگلینڈ اور بیلز نے افغانستان میں امدادی ایجنسیوں کے ناموں کے مخففوں جیسے یونیکا ، ایکو اور ہوپ وغیرہ کو جھنڈوں اور فوٹوز پر چھاپ کر اور نیون کی صورت میں دکھا کر ایک سادہ سے خیال کو خاصا لمبا کھینچنے کی کوشش کی ہے۔ نمائش کی ابتدا دنیا کی تاریخ سے ہوتی ہے جو جرمی ڈیلر نے دیواروں پر لکھی گئی چیزوں سے بنائی گئی ہے اور اس میں ان الفاظ کو اس طرح ملایا گیا ہے کہ پتا چلے کہ ایسڈ ہاؤس اور براس بینڈز کس طرح آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ ٹرنر شو تئیس دسمبر تک ٹیٹ برٹن میں جاری رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||