BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 December, 2003, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شادی کا بندھن، کہیں کوئلہ کرے کہیں کُندن
مردوں کے لیے شادی مضر عورتوں کے لیے موافق ثابت ہوتی ہے
مردوں کے لیے شادی مضر عورتوں کے لیے موافق ثابت ہوتی ہے

شادی کے بندھن میں بندھے خواتین اور مردوں پر پڑنے والے نفسیاتی اور طبی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کی جانے والی ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ شادی سے مردوں کی دماغی صحت پر منفی اور عورتوں کی جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ شادی شدہ مردوں میں ان مردوں کے مقابلے میں جو شادی کے بغیر خواتین کے ساتھ رہتے ہیں نفسیاتی مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

جب کہ شادی شدہ اور شادی کے بغیر کسی مرد کے ساتھ رہنےوالی عورتیں کے ساتھ معاملہ بالکل مختلف ہے۔

کوئین میری یونیورسٹی کے ماہرین نے پینسٹھ سال سے کم عمر چار ہزار مرد اور خواتین کے انٹرویو کرنے کے بعد یہ نتائج اخز کئے ہیں۔

ان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو خواتین اور مرد رشتہ ازدواج میں زیادہ عرصہ تک منسلک رہتے ہیں ان کو آخری عمر میں اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے اوران کے ذہنی امراض کا شکار ہونے کا امکان کم ہو تا ہے۔

تاہم اگر ان کا رشتہ ٹوٹ جائے تو اس صورت میں ان میں ذہنی امراض کی شکایت بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس صورت میں بھی خواتین زیادہ اثر قبول کرتی ہیں اورصورت حال کا مقابلہ کرنے میں انہیں بہت دقت پیش آتی ہے۔

اس بنا پر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ خواتین جو تناہ رہتی ہیں وہ زیادہ ٹھیک رہتی ہیں۔

تاہم اگر یہ کسی رشتے میں منسلک ہو جائیں تو شادی کرنا ان کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ وہ خواتین جو شادی کے بغیر رہتی ہیں وہ اپنے اپ کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔

ایسی خواتین کو شادی شدہ خواتین کے مقابلے میں کوئی معاشی اور سماجی حقوق حاصل نہیں ہوتے جس بنا پر وہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ قانون بنانے والوں کو ان کے تجزیے کی روشنی میں غیر شادی شدہ عورتوں کو بھی وہی معاشی اور سماجی حقوق دینے چاہیں جو کہ شادی شدہ خواتین کو قانون کے تحت حاصل ہیں۔

انسانی رشتوں کی ایک ماہر پاولا ہال نے کہا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں اور ان میں بچے پالنے اور تحفظ کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے لیے شادی بہت اہم ہوتی ہے۔

مرودوں کے لیے تحفظ کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا لیکن وہ جب کسی رشتے میں پھنس جاتے ہیں تو ان کے لیے نفسیاتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد