BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 October, 2003, 06:59 GMT 11:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شادی کا ویزا
مقبول احمد کا نکاح چھ نومبر کو ہوگا

طویل تعطل کے بعد دہلی اور لاہور کے درمیان حال ہی میں شروع ہونے والی بس سروس جب پیر کو بھارت جائے گی تو مسافروں میں ایک خاتون طاہرہ بیگم بھی ہوں گی۔ خاتون کے سفر کا مقصد بھارت میں اپنے منگیتر مقبول احمد سے شادی کرنا ہے۔

طاہرہ جو پاکستان میں کمپیوٹر کے پیشے سے وابستہ ہیں فیصل آباد سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کی منزل بھارت کی شمالی ریاست پنجاب کا ایک شہر ہے جہاں مسلمانوں کے رسم و رواج کے مطابق وہ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو جائیں گی۔

دو برس کے دوران مقبول اور طاہرہ کی ’سرحد پار شادی‘ ہوگی کیونکہ دسمبر سن دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی ہوگئی تھی اور دہلی اور لاہور کے درمیان سفر کا سلسلہ منقطع ہوگیا تھا۔

مقبول اور طاہرہ کے عزیز اقرباء بڑے اشتیاق سے اس شادی کا انتظار کر رہے ہیں اور نکاح کے لئے چھ نومبر کی تاریخ طے کی گئی ہے۔

بھارتی حکومت کے ایک پاکستانی لڑکی کو شادی کے لئے ویزا دینے کے فیصلے نے ہزاروں خاندانوں میں امید کی ایک کرن پیدا کی ہے جو دونوں ممالک میں منقسم ہیں۔

طاہرہ کے منگیتر مقبول نے بتایا کہ طاہرہ ان کی کزن ہیں اور ان کی منگنی مارچ دو ہزار ایک میں ہوئی تھی۔ نکاح اسی سال دسمبر میں ہونا تھا لیکن اچانک صورتِ حال تبدیل ہوگئی اور دنوں ملکوں کے درمیان سفر بھی ختم ہوگیا۔

یہ کوشش بھی ہوئی کہ دونوں کی شادی کسی تیسرے ملک میں کر دی جائے لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

مقبول کہتے ہیں کہ ان حالات میں ویزا حاصل کرنے کا امکان بھی کم سے کم ہو گیا۔ ’ہم سب لوگ بہت دکھی سے ہو گئے۔ خصوصاً اس لئے بھی کہ ہمارے خاندان میں یہ پہلی شادی تھی اور میری بیمار والدہ چاہتی تھیں کہ وہ اپنی آنکھوں سے یہ شادی ہوتی دیکھ لیں۔‘

مقبول احمد جو صحافی ہیں کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے جب حالات بہتر ہونا شروع ہوئے تب بھی ویزے کا حصول آسان نہیں تھا۔ پاکستان ہائی کمیشن نے مقبول احمد کو پہلے ہی ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔

تاہم ایک کانفرنس کے موقع پر جہاں سابق بھارتی وزیرِ اعظم اندر کمار گجرال اور بھارتی پارلیمان کے رکن کلدیپ نیر بھی موجود تھے، مقبول احمد نے اپنے مسئلے کا ذکر کیا جہاں انہیں ویزا حاصل کرنے میں معاونت کی پیشکش کی گئی۔ جس کے بعد طاہرہ کو ویزا مل سکا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد