| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ستائیس شادیوں والی پیشہ ور دلہن ستائیس شادیاں رچانے والی امریکی خاتون نے نیویارک کی ایک عدالت کے سامنے اپنی ازدواجی حیثیت کے بارے میں غلط بیانی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق چالیس سالہ ڈیزری کورٹس نے سن انیس سو چوراسی اور سن دوہزار دو کے درمیان اٹھارہ سالہ عرصے میں ستائیس مردوں سے شادی کر کے ہزاروں ڈالر کمائے۔ ڈیزری سے شادی کرنے والے تمام افراد غیر قانونی تاریکین وطن تھے جنہوں نے جعلی شادیوں کے ذریعے امریکی گرین کارڈ اور کام کرنے کے اجازت نامے حاصل کئے۔ ڈیزرے کورٹس نے ایک ہندوستانی شہری سے شادی کے لئے دی گئی درخواست میں خود کو غیر شادی شدہ ظاہر کیا۔ ان کو سات جنوری کو سزا سنائی جائے گی۔ ڈیزرے کورٹس سے جعلی شادی کرنے والوں کی فہرست میں ہندوستان، پاکستان، ایکواڈور، ڈومینیک ریپبلک، میکسیکو اور پیرو کے شہری شامل ہیں۔ ڈیزرے کورٹس نے تمام غیرقانونی تارکین وطن سے اس شرط پر شادی کی کہ وہ ان کے ساتھ ہم بستری تو نہیں کریں گی مگر وہ انہیں طلاق بھی نہیں دیں گی۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے متعدد بار شادی کے اندراج پر معمور کلرکوں کے سامنے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے خود کو کنواری ظاہر کیا۔ تاہم انہوں نے عدالتی مفاہمت یا پلی بارگین کے صرف ایک بار جھوٹ بولنے کا اعتراف کیا اور کہا کہ انہوں نے سن دوہزار میں ایک سینتیس سالہ ہندوستانی شخص سے شادی کے لیے دی گئی درخواست میں غلط بیانی سے کام لیا تھا۔ اس کے نتیجے میں امید کی جارہی ہے کہ انہیں چھ ماہ قید کی سزا سنائی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||