| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیسیکا لنچ کی شادی
امریکی فوجی جیسیکا لنِچ جنہیں امریکی سپیشل فورسز نے عراق جنگ کے زمانے میں بقول پینٹاگون عراقی قبضے سے چھڑوایا تھا، اب شادی کرنے والی ہیں۔ یہ واقعہ عراق جنگ کے دور کا ایسا واقعہ ہے جسے بہت شہرت ملی اور ساتھ ہی پینٹاگون پر یہ تنقید کی گئی کہ جیسیکا کی جان بچانے کی کارروائی دراصل پینٹاگون کا ایک ڈرامہ تھا۔ انہیں اسی سال مارچ میں عراقی فوج نے ناصریہ میں ایک امریکی دستے پر حملہ کے دوران دیگر چھ امریکی فوجیوں کے ہمراہ حراست میں لیا تھا۔ بیس سالہ جیسیکا لنِچ، فوج کے ایک سارجنٹ ریوبن کونٹریراس کے ساتھ اگلے سال جون میں شادی کررہی ہیں۔ تاہم ابھی شادی کی تاریخ اور مقام کو راز میں رکھا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ دونوں دو سال قبل ٹیکساس میں ایک فاسٹ فوڈ میں ملے تھے۔ جیسیکا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی شادی کو میڈیا سے دور رکھنا چاہتی ہیں کیونکہ یہ ان کی نجی زندگی کا معاملہ ہے۔ پینٹاگون کے مطابق جنگ کے دوران جیسیکا کو عراقی فوجیوں نے گرفتار کیا تھا اور ایک مقامی وکیل کی اطلاعات پر انہیں امریکی فوجیوں نے بڑے ڈرامائی انداز میں بچایا تھا۔ جیسیکا لنِچ اس واقعے میں زخمی ہوگئی تھیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ اب بھی مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں عراق میں اپنی حراست کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔ تاہم انہوں نے حال ہی میں ایک ملین ڈالر کا ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ اپنے پکڑے جانے کا واقعہ تفصیلاً ایک کتاب میں شائع کروائیں گی۔ I Am a Soldier Too: The Jessica Lynch Story یا ’میں بھی ایک فوجی ہوں: جیسیکا لنچ کی کہانی‘ نامی یہ کتاب اس ماہ شائع ہوجائے گی اور اس کتاب کی تشہیر کے لئے امریکی ذرائع ابلاغ میں جیسیکا کے کئی انٹرویوز نشر کئے جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||