آسکرز میں صنفی اور نسلی امتیاز کو کم کرنے کی کوششیں

،تصویر کا ذریعہAFP
آسکرز ایوارڈز کے منظمین نے اس نکتہ چینی کے بعد کہ آسکر کی تقریب میں تنوع کی کمی ہے آئندہ برس کے اکیڈمی ایوارڈز میں ووٹ ڈالنے کے لیے بڑی تعداد میں نئے لوگوں کو مدعو کیا ہے۔
تقریباً 7000 نئے افراد کو ووٹ کے لیے دعوت دی گئی ہے اور ان میں خواتین اور اقلیتی رنگ و نسل کے لوگوں پر خاص توجہ دی گئی ہے۔
ووٹنگ کے عمل میں جن لوگوں کو حصہ لینے کے لیے کہا گيا ہے اس میں سے تقریباً نصف خواتین ہیں جن کا تعلق مختلف نسل سے ہے۔
آسکر ایوارڈز کی نامزدگیوں کے لیے ترتیب دی جانے والی کمیٹی کے اراکین کا تعلق فلم انڈسٹری سے ہوتا ہے جو ہر سال اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرکے اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کن افراد اور فلموں کو آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد کرنا ہے۔
گذشتہ فروری میں ہونے والے 88ویں اکیڈمی ایوارڈز میں تمام کی تمام نامزدگیاں سفید فام لوگوں کی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔
اسی کے بعد اکیڈمی ایواڈز میں نسلی امیتیاز کے حوالے سے بحث چھڑ گئی تھی اور بہت سے لوگوں نے اس کے خلاف سوشل میڈیا پر کھل کر رائے ظاہر کی تھی اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس کے بعد ہی ’دی اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹ اینڈ سائنس‘ نے اس کے ارکان میں تبدیلی کی بات کہی تھی۔ اس سے قبل اس کے بیشتر رکن سفید فام اور مرد ہوا کرتے تھے۔
اکیڈمی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جن نئے افراد کا شامل کیا گیا ہے اس میں فلم ’سٹار وار‘ کے اداکار جان بوئیگا، ہیری پوٹر کی ایما واٹسن، سوئیڈن کی آسکر انعام یافتہ اداکارہ السیا وکاندرے اور موسیقار میری جے بلیج کے نام شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن نئے افراد کو دعوت دی گئی ہے اگر وہ اس میں شامل ہوئے تو چھ ہزار سے زیادہ افراد پر مشتمل اس کے ارکان کی شبیہہ پہلے سے بدل جائےگی اور اس میں خواتین کے ساتھ ساتھ مختلف نسل کے لوگوں کی مناسب نمائندگی ہوسکے گی۔
موجودہ صورت حال میں اس میں تقریبا 75 فیصد رکن مرد ہیں۔ جبکہ اب مردوں کی رکنیت 73 فیصد رہ جائیگي۔ اسی طرح سفید فام لوگوں کی رکنیت 92 فیصد سے کم ہوکر 89 فیصد ہوجائے گي۔







