سیاہ فاموں کو نظرانداز کیے جانے پر آسکرز کا بائیکاٹ

،تصویر کا ذریعہ.

ہالی وڈ کے ہدایتکار سپائیک لی اور اداکارہ جاڈا پنکٹ سمتھ نے کہا ہے وہ آسکر ایوارڈز کے لیے زیادہ تر سفید فام فنکاروں کی نامزدگیوں کی وجہ سے آئندہ ماہ ان ایوارڈز کی تقریب میں شریک نہیں ہوں گے۔

لی نے انسٹاگرام پر کہا کہ وہ ’للی وائٹ ایوارڈ شو کی حمایت نہیں کر سکتے۔‘

یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ آسکر ایوارڈز کی نامزدگیوں کی فہرست میں زیادہ تر سفید فام فنکاروں کی موجودگی کے باعث تقریب کے بائیکاٹ کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں۔

آسکرز کی نامزدگیوں میں نظر انداز کیے جانے والوں میں بہترین فلم کے لیے بائیوپک ’سٹریٹ آؤٹ آف کومپٹن‘ اور ’ کنکوشن‘ میں اداکاری کے لیے بہترین اداکار کے طور پر وِل سمتھ شامل تھے۔

ول کی اہلیہ جاڈا پنکٹ سمتھ نے فیس بُک پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ آسکرز کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔

کنکوشن میں بہترین اداکاری بھی ول سمتھ کو آسکر کی نامزدگی نہ دلوا سکی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکنکوشن میں بہترین اداکاری بھی ول سمتھ کو آسکر کی نامزدگی نہ دلوا سکی

انھوں نے کہا ’خود کو تسلیم کرانے کے لیے بھیک مانگنا، یا حتیٰ کہ پوچھنا، آپ کے وقار اور اثرورسوخ کو کم کردیتا ہے اور ہم باعزت اور بااثر لوگ ہیں۔‘

آسکر لی نے بھی اسی طرح کے بیان میں کہا کہ ’دو برسوں میں 40 سفیدفام اداکار اور اُن میں کوئی تبدیلی نہیں، ہم کام نہیں کرسکتے؟‘

جمعرات کو اس اعلان کے بعد سے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ہیش ٹیگ ’آسکرز سو وائٹ‘ بہت زیادہ استعمال کیا گیا۔

امریکی شہری حقوق کی سرگرم اور محترم شخصیت ال شیرپٹن نے کہا کہ ’ہالی وڈ پتھریلے پہاڑوں جیسا ہے، جتنا آپ اُوپر جائیں گے اسے اتنا ہی سفید پائیں گے اور اس سال کے اکیڈمی ایوارڈز بھی کسی دوسرے پتھریلے پہاڑی آسکر کی مانند ہوں گے۔‘