’آسکر سے زیادہ خوشی بِل پاس ہونے پر ہوگی‘

،تصویر کا ذریعہlotus
- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی ہدایتکارہ شرمین عبید چنائے کی دستاویزی فلم ’اےگرل ان دا ریور‘ کو آسکر ایوارڈز کی حتمی نامزدگیوں کی فہرست میں شامل کر لیاگیا ہے۔
آسکر ایوارڈز کی سالانہ تقریب 28 فروری کو منعقد کی جائےگی جس کے لیے حتمی نامزدگیوں کا باقاعدہ اعلان آج اکیڈمی آف موشن پکچر کی جانب سےکیا گیا۔
<link type="page"><caption> پاکستانی فلمساز شرمین عبید آسکر جیت گئیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2012/02/120227_sharmeen_obaid_oscar_rwa" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> تو اچھا کیوں نہ لگے ؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2012/02/120227_oscar_sharmeen_wusat_sz" platform="highweb"/></link>
شرمین عبید چنائے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ دستاویزی فلم غیرت کے نام پر قتل کے بارے میں ہے جو ایک لڑکی صبا کی کہانی ہے جسے اس کے رشتے داروں نے اپنی جانب سے مار کر دریا میں پھینک دیاتھا مگر وہ معجزانہ طور بچ گئی۔ جس کے بعد اس نے ہسپتال کےڈاکٹروں اور پولیس کےساتھ مل کر اپنا کیس لڑا مگر پھر جیسے ہمارے ملک میں ہوتا ہے ، اس لڑکی نےدباؤ میں آ کر ان لوگوں کو معاف کردیا۔‘
شرمین کا کہنا تھا کہ یہ مہم غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات معاف کرنے کا اختیار ختم کرنے کے لیے ہے اور اس کےخاتمے کے لیے ایک بِل ’اینٹی آنر کرائم بِل 2014‘ پاکستان کی پارلیمان میں پیش کیا چکا ہے جو سینٹ سے تو منظور ہوگیا ہے مگر قومی اسمبلی میں یہ گذشتہ سال مارچ سے اٹکا ہوا ہے۔‘
شرمین نے کہا کہ وہ آسکر پہلے بھی جیت چکی ہیں اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ایک آسکر جیتنےکے بعد دوسرے آسکر کے لیےنام آئے مگر انھیں زیادہ خوشی تب ہوگی جب یہ بِل قومی اسمبلی سے پاس ہوجائے گا۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف نےشر مین عبید چنائےکو ان کی دستاویزی فلم کی آسکر میں نامزدگی کے بعد مبارکباد دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیرِ اعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس فلم کا موضوع بہت اہم ہے، حکومت کا عزم ہے کہ وہ غیرت کے نام پر قتل جیسے سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی کرے گی اور شرمین عبید چنائے کی دستاویزی فلم اس ضمن میں بہت مددگار ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہlotus
انھوں نے مزید کہا کہ اس فلم کی پاکستان میں نمائش وزیرِ اعظم ہاؤس سے شروع کیے جانے کی توقع ہے۔
وزیرِ اعظم کے پیغام کے جواب میں شرمین عبید چنائے کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات خوشی ہےکہ وزیرِ اعظم نےانھیں مبارک باد دی ہے اور ایک ہدایت کار کی حیثیت سے وہ چاہتی ہیں کہ وہ اس مسئلے کو اجاگر کریں اور انھیں امید ہے کہ آسکر میں نامزدگی سے یہ معاملہ مزید اجاگر ہوگا اور حکومت کی مدد سے یہ بِل ضرور پاس ہوگا۔
دوسرا آسکر ایوارڈ ملنے کی امید پر ان کا کہنا تھا کہ کامیابی اور ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
شر مین عبید چنائے اس سے پہلے بھی سنہ 2012 میں دستاویزی فلم ’سیونگ فیس‘ کے لیے آسکر ایوارڈ جیت چکی ہیں۔
شر مین عبید ان 11 خواتین ہدایتکاروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے نان فکشن کے شعبے میں آسکر ایوارڈ حاصل کر رکھا ہے۔







