آسکرز کے بورڈ کو متنوع بنانے کا اعلان

بُون آئزک نے کہا کہ بورڈ میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اس میں مزید اصلاحات کا سلسلہ جاری رہے گا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبُون آئزک نے کہا کہ بورڈ میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اس میں مزید اصلاحات کا سلسلہ جاری رہے گا

آسکر انعام دینے والے ادارے ’دی اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹ اینڈ سائنس‘ کے بورڈ میں نسلی تنوع کے حالیہ تنازع کے بعد اکیڈمی نے بورڈ کو متنوع بنانے کا اعلان کیا ہے۔

بورڈ میں امریکی نژاد سیاہ فام پروڈیوسر ریگنالڈ ہڈین اور کوریا میں پیدا ہونے والی ہدایت کارہ جنیفر یوہ نیلسن سمیت تین نئے گورنر مقرر کیے گئے ہیں۔

ہالی وڈ کے کئی فن کاروں نےگذشتہ ماہ ہونے والی آسکر تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا جس کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

اکیڈمی کی صدر چیرل بوں آئزیکس نے کہا اب بورڈ میں ’زیادہ تنوع ہے۔‘

خیال رہے کہ ہالی وڈ کے پروڈیوسر سپائک لی اور اداکارہ جاڈا پنکٹ سمتھ نے ایوارڈز کے لیے زیادہ تر سفید فام امیدواروں کی نامزدگی کے بعد رواں سال آسکر کی تقریب میں شرکت سے انکارکر دیا تھا۔

اکیڈمی نے کمیٹی کے لیے چھ نئے ارکان کو بھی مقرر کیا ہے جس میں میکسیکو نژاد اداکار گائل گارشیا بیرنال اور امریکی نژاد سیاہ فام پروڈیوسر ایفی براؤن اور سٹیفنی آلیان بھی شامل ہیں۔

بون آئزیکس نے اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’ہم نے، کئی برس پہلے ہی، زیادہ شمولیت کی شروعات کی تھی اور یقینا اسے مزید تیز کر دیا ہے۔ ہم اس عمل کو جاری رکھنا چاہتے تھے، تو ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہم ان نئے اضافوں کا اعلان کر سکے۔‘

اس بارے میں جن نئی تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا اس میں آسکر انعام کے لیے فلم سے وابستہ کاروباری شخصیات کے ووٹنگ حقوق کو محدود کرنا بھی شامل ہے۔

سپائک لی اور اداکارہ جاڈا پنکٹ سمتھ نے ایوارڈز کے لیے زیادہ تر سفید فام امیدواروں کی نامزدگی کے بعد رواں سال آسکر کی تقریب میں شرکت سے انکارکر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشنسپائک لی اور اداکارہ جاڈا پنکٹ سمتھ نے ایوارڈز کے لیے زیادہ تر سفید فام امیدواروں کی نامزدگی کے بعد رواں سال آسکر کی تقریب میں شرکت سے انکارکر دیا تھا

آسکر ایوارڈز کی نامزدگیوں کے لیے ترتیب دی جانے والی کمیٹی کے اراکین کا تعلق فلم انڈسٹری سے ہوتا ہے جو ہر سال اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرکے اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کن افراد اور فلموں کو آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد کرنا ہے۔

اکیڈمی نے فروری میں ہونے والی آسکر تقریب کے دوران جن ایشیائی ارکان کو ایک پروگرام سے ٹھیس پہنچی تھی ان سے معافی بھی مانگی ہے۔

امریکی مزاحیہ فنکار کرس راک کو آسکر تقریب کی میزبانی کے دوران ایشیائی نژاد امریکیوں کے بارے میں مذاق کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان پر اکاؤنٹینٹس کے ایک گروپ کو متعارف کرانے کے سلسلے میں نسل پرستانہ ’سٹیریوٹائپ‘ یعنی فرسودہ روایات کو ہوا دینے کا الزام لگایا گیا تھا کیونکہ وہ اکاؤنٹینٹس ایشیائی نژاد بچوں کا ایک گروپ نکلا۔

اکیڈمی کی صدر بون آئزیکس نے کہا کہ لوگوں کو اس سے ٹھیس پہنچی ہے اس لیے میں معافی چاتی ہوں۔ ’میں لوگوں کے احساسات سمجھ سکتی ہوں اور اس پر بات چیت کے لیے ہم ایک کمیٹی مقرر کر رہے ہیں کیونکہ آپ تو جانتے ہیں کہ کسی کو ٹھیس پہنچانا مقصد نہیں ہوتا ہے۔‘

’میرے خیال سے بات چيت کے ذریعے بہت کچھ حاصل کیا چا چکا ہے اور ہم وہی کام جاری رکھیں گے، گفت و شنید، سننا اور اسے حل کرنا۔‘