’میں تو شادی کرنے کے لیے بیقرار ہوں لیکن‘

سلمان خان اپنے متنازع بیانات کے لیے بھی جانے جاتے ہیں
،تصویر کا کیپشنسلمان خان اپنے متنازع بیانات کے لیے بھی جانے جاتے ہیں
    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

سلمان خان تمام تنازعات کے درمیان اپنی فلم ’سلطان‘ کے پروموشن میں مصروف ہیں اور مختلف ٹی وی شوز میں نظر آ رہے ہیں اور ویسے بھی آج کل وہ جہاں جاتے ہیں لوگوں کے چہروں پر ان کی شادی کے متعلق سوال خو بخود نظر آنے لگتا ہے۔

ایسے ہی ایک ٹی وی شو ’سا رے گا ما پا‘ کے دوران سلمان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ان کی قسمت اچھی نہیں ہے۔ وہ تو شادی کرنے کے لیے بیقرار ہیں لیکن کوئی لڑکی ہاں ہی نہیں کرتی۔

سلمان آج کل کچھ زیادہ ہی مذاق کے موڈ میں ہیں لیکن کبھی کبھی مذاق بھاری پڑ سکتا ہے۔ اب فلم کی شوٹنگ کے تجربے کو ریپ سے تشبیہ دینے پر پچھلے ہفتے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا میں کہیں سلمان کو ’بے حس‘ کہہ کر پکارا گیا تو کہیں ’بھائی‘ کے مداح ان کے حق میں دلائل دیتے نظر آئے کہ ان کا ’جملہ غیر ارادی تھا۔‘

بالی وڈ میں سلمان کے حق میں تو بہت لوگ نظر آئے لیکن کھل کر کسی نے ان کی حمایت نہیں کی۔ سلمان کے بےساختہ جملے یا بیانات اکثر انھیں مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔

آئیفا فلم فیسٹیول میں سلمان خان، دیپکا اور سوناکشی سنہا کو دیکھا جا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآئیفا فلم فیسٹیول میں سلمان خان، دیپکا اور سوناکشی سنہا کو دیکھا جا سکتا ہے

اب چاہے ان کے یہ جملے غیر ارادی ہی کیوں نہ ہوں لیکن بعض لوگوں کا یہ خیال بھی درست ہے کہ ایک معروف اور بڑی شخصیت ہونے کے ناطے انھیں زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے۔

سلمان کو اپنی غلطی کا فورا احساس ہوگیا تھا اور جمعرات کو سپین کے شہر میڈرڈ میں آئیفا ایوارڈز سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ وہ جتنا کم بات کریں اتنا ہی اچھا ہے لیکن پھر بھی وہ بولنے سے نہیں چوکے اور اسی دوران وہاں موجود پرینکا چوپڑہ اور دپیکا پادوکون کو ’ہالی وڈ ریٹرن‘ پکارتے ہوئے مذاقاً کہا کہ ’اب یہ دونوں ہالی وڈ میں ہیں اس لیے ہندی فلموں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘

اب دپیکا اور پرینکا نے اس بات کو مذاق میں لیا یا نہیں یہ تو معلوم نہیں ہو سکا ہاں اگر ’دبنگ خان‘ اسی طرح بے باکی کا مظاہرہ کرتے رہے تو کسی دن وہ ضرور کسی بڑی مشکل میں پڑ سکتے ہیں اور یوں بھی ان کی زندگی مشکلات سے پر ہے۔

’بڑے میاں چھوٹے میاں‘ کا ری میک

امیتابھ بچن اور گوندا کی فلم نے بہتر کمائی کی تھی

،تصویر کا ذریعہpr

،تصویر کا کیپشنامیتابھ بچن اور گوندا کی فلم نے بہتر کمائی کی تھی

فلم ساز واسو بھگنانی کا کہنا ہے کہ وہ امیتابھ بچن اور گوندا کی کامیڈی فلم ’بڑے میاں چھوٹے میاں‘ کا ری میک بنائیں گے اور ان کی کوشش ہوگی کہ اس فلم میں امیتابھ اور گوندا کا کم از کم ایک سین ضرور ہو۔

سنہ 1998 میں بنائی جانے والی ڈیوڈ دھون کی اس فلم میں امیتابھ اور گوندا نے مرکزی کردار نبھائے تھے اور دونوں کا ڈبل رول تھا۔

اس فلم نے تجارتی سطح پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن فلم میں بھونڈی کامیڈی اور کمزور سکرپٹ پر خاصی تنقید ہوئی تھی اور فلم ضرورت سے زیادہ لمبی بھی تھی۔

امید ہے کہ واسو ان غلطیوں کو دہرانے کی غلطی نہیں کریں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس وقت فلم کا جو انجام ہونا چاہیے تھا وہ واسو بھگنانی کو اس کے ریمیک میں جھیلنا پڑے۔

فلم ’شورغل‘ مشکلات کا شکار

پہلے یہ فلم 17 جون کو ریلیز ہونے والی تھی

،تصویر کا ذریعہShorgul

،تصویر کا کیپشنپہلے یہ فلم 17 جون کو ریلیز ہونے والی تھی

بالی وڈ میں تفریحی فلموں کے ساتھ ساتھ اصل سماجی موضوعات اور واقعات پر بھی فلمیں بنائی جا رہی ہیں جن میں فلم ’اڑتا پنجاب‘ جیسی فلمیں شامل ہیں جسے سنیما گھروں تک لانے کے لیے فلمساز کو عدالت کا دروازہ تک کھٹکھٹانا پڑا۔

اسی طرح فلم ’شورغل‘ ان حقائق پر روشنی ڈالتی ہے جن کے سبب مظفر نگر کے فسادات، گودھرا واقعہ اور بابری مسجد کے انہدام جیسے واقعات پیدا ہوئے۔

فلم میں ملک کے بیورو کریٹس کے کردار، سیاست دانوں کی چالوں اور اعلی عہدوں پر فائز شخصیات کی سازشوں کے حوالے بھی ہیں۔

فلم کے پروڈیوسرز میں سے ایک سوتنتر وجے سنگھ کا کہنا ہے کہ فلم کی ریلیز 24 جون کی بجائے اب یکم جولائی کر دی گئی ہے کیونکہ کئی سینیما مینیجرز نے فلم کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں اور یقین دہانیوں کے باوجود کچھ سینیما گھروں نے فلم نہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

فلم اڑتا پنجاب کو فلم برادری کی جانب سے بہت حمایت حاصل رہی

،تصویر کا ذریعہREUTERS.Shailesh Andrade

،تصویر کا کیپشنفلم اڑتا پنجاب کو فلم برادری کی جانب سے بہت حمایت حاصل رہی

فلسماز کا کہنا ہے ’یہ فلم انسانیت سے متاثر تخلیقی نمونے میں سے ایک ہے اور اس میں عام آدمی کے لیے ایک پیغام ہے۔‘

اب دیکھتے ہیں کہ اس فلم کے لیے بھی ’اڑتا پنجاب‘ جسی حمایت سامنے آئے گی یا نہیں۔

اس فلم میں جمی شیرگل اور آشوتوش رانا نے اداکاری کی ہے۔