مشکل موضوعات شرمین کے لیے نئی چیز نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP
37 سالہ شرمین عبید چنائے وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنھوں نے دو آسکر ایوارڈز جیت کر تاریخ رقم کردی ہے۔
منگل کے روز شرمین پاکستان میں اُس وقت شہ سُرخیوں کی زینت بنیں جب امریکی شہر لاس اینجلس میں ہالی وڈ کے ڈولبی تھیٹر میں سال کی بہترین مختصر دستاویزی فلم کے لیے اُن کا نام پُکارا گیا۔
وہ ایوارڈ وصول کرنے کے لیے چل کر سٹیج تک آئیں، فاتحانہ انداز میں اپنا آسکرا فضا میں بلند کیا اور کہا ’میرے پاس ایک اور آسکر آگیا!‘
فلم ’دا گرل اِن دا ریور: پرائس فار فورگیونیس‘ میں پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل‘ کو سامنے لایا گیا ہے۔ یہ دستاویزی فلم صبا نامی 18 سالہ لڑکی کی کہانی ہے جسے اس کے رشتے داروں نے غیرت کے نام پر قتل کرنے کی کوشش کے بعد مردہ سمجھ کر دریا میں پھینک دیاتھا مگر وہ معجزانہ طور پر اپنی کہانی بتانے کے لیے زندہ بچ گئی تھی۔
غیرت کے نام پر قتل ایک ایسا موضوع ہے جس پر پاکستان میں زیادہ بات نہیں کی جاتی جس کی بُنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر جرائم کا پتہ نہیں چلتا اور اِن جرائم کے متاثرین ہمیشہ نامعلوم رہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ شرمین عبید چنائے نے اسے اپنی تازہ ترین فلم کے موضوع کے طور پر منتخب کیا۔
ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد انھوں نے کہا کہ اُن کی فلم دیکھنے کے بعد پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے غیرت کے نام پر قتل کے قانون کو تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اُن کے مطابق ’یہ فلم کی طاقت ہے۔‘ لیکن قانون سازی کو اس قدامت پسند معاشرے پر لاگو کرنا مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچہ مذہبی رہنما اس طرح کے قتل کی مذمت کرتے ہیں تاہم اس روایت کے لیے وسیع پیمانے پر حمایت موجود ہے۔ قاتل کو اگر متاثرہ فرد کا خاندان معاف کردے تو وہ سزا سے بچ جاتا ہے۔
شرمین عبید چنائے سنہ 1978 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی گرامر سکول سے حاصل کی اور بعد میں امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی سے ابلاغِ عامہ کی تعلیم حاصل کی۔
سنہ 2010 سے انھوں نے ایک درجن سے زائد دستاویزی فلمیں بنائیں اور اُن کی ہدایتکاری کی۔
دو آسکر ایوارڈ کے علاوہ انھوں نے سنہ 2010 اور سنہ 2013 میں اپنی دستاویزی فلموں کے لیے دو ایمے ایوارڈ بھی جیتے اور سنہ 2012 میں جب انھوں نے اپنا پہلا آسکر ایوارڈ جیتا اُس کے فوراً بعد انھیں پاکستان کے دوسرے بڑاے اعلیٰ ترین اعزاز ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔
آسکر جیتنے سے چند ہفتے قبل میری شرمین عبید چنائے سے ملاقات ہوئی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس ایوارڈ سے زیادہ اُنھیں خوشی اس بات کی ہے کہ فلم کی وجہ سے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کا یہ موضوع عوامی سطح پر اُجاگر ہوا ہے۔

اُن کے مطابق ’غیرت کے نام پر قتل پاکستان میں ممنوعہ موضوع ہے۔
’یہ ایک بہت نجی مسئلہ ہے۔ یہ تب ہوتا ہے جب ایک باپ اپنی بیٹی کو قتل کر دے، جب ایک بھائی اپنی بہن کو قتل کردے اور یہ بات خاندان میں ہی رہتی ہے۔
’اکثر اوقات آپ اِن خواتین کے نام نہیں جان پاتے، آپ لاشیں تلاش نہیں کرپاتے، حتیٰ کہ آپ کو یہ بھی معلوم نہیں ہوپاتا کہ ایک خاتون کو قتل کردیا گیا ہے۔‘
مشکل موضوعات پر کام شرمین کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہے۔
سنہ 2012 میں انھوں نے ایک اور مختصر دستاویزی فلم پر آسکر ایوارڈ جیتا تھا۔
فلم پاکستان میں تیزاب گردی کے واقعات پر بنائی گئی تھی، تیزاب سے حملہ ایک نفرت انگیز عمل ہے جس میں ’بُزدل‘ رشتے دار یا مُسترد عاشق، متاثرہ خواتین پر تیزاب پھینک کر اُن کے چہرے بدنما بنا دیتے ہیں۔
اس نے مجھے بتایا کہ ایک پاکستانی فلم ساز کے طور پر اسے یہاں کے لوگوں کے مسائل میں دلچسپی ہے۔
انھوں نے مجھے بتایا کہ بطور پاکستانی فلم ساز کے وہ ایسے مسائل میں دلچسپی رکھتی ہیں جو یہاں کے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔
اُن کے مطابق ’پاکستان میں ایسی بے تحاشا چیزیں موجود ہیں جنھیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ اُنھیں لوگوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ صرف ملک کی خراب چیزوں کو ہی سامنے لاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستان میں رہتی ہوں اور مجھے لازمی طور پر اِن مسائل پر بات کرنی چاہیے۔‘
شرمین کا کہنا ہے کہ اِس فلم کے ذریعے اُنھوں نے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بل لانے کی بھی کوشش کی ہے۔ اسمبلی کی ایک رُکن کی جانب سے ایوان میں یہ بل پیش کیا جاچکا ہے جس کو سینیٹ نے منظور کر لیا ہے تاہم قومی اسمبلی میں یہ بل حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان اختلاف کے باعث غیر موثر ہوگیا۔
شرمین کے دفتر کا جائزہ لیا جائے تو اس میں اعزازات سے بھری الماریاں، جس میں اُن کے ایمے ایوارڈ بھی شامل ہیں اور شرمین کی نامور شخصیات جیسے کہ امریکی اداکارہ میرل سٹریپ اور امریکی صدارتی اُمیدوار ہیلری کلنٹن کے ساتھ تصاویر بھی سجی ہوئی ہیں۔
جب انھوں نے مجھے آسکر ایوارڈ ڈھونڈتے دیکھا تو کہا کہ ’بدقسمتی سے آسکر یہاں موجود نہیں ہے۔‘
انھوں نے ہنستے ہوئے کہا ’میں نے اسے محفوظ طریقے سے تالے میں بند کر رکھا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ دیکھنا بہت آسان ہے کہ شرمین اس طرح کی واحد خاتون ہیں اس لیے نہیں کہ وہ پہلی پاکستانی ہیں جنھوں نے دوبار آسکر ایوارڈ جیتا بلکہ اس لیے بھی کہ وہ ایک ایسے معاشرے کی کامیاب خاتون فلم ساز ہیں جہاں ہزاروں خواتین اب بھی تیزاب سے حملوں اور غیرت کے نام پر قتل جیسی مختلف روایات کے خلاف اب بھی برسرِ پیکار ہیں۔
اس سے پہلے شرمین نے کہا تھا کہ ’ اگر یہ بل (غیرت کے نام پر قتل کے خلاف) منظور ہوجاتا ہے تو آسکر ایوارڈ کے لیے ریڈ کارپٹ پر چلنے سے قبل ہی وہ فاتح بن جائیں گی۔‘







