جشن ریختہ: کوئی تشنہ کام نہ لوٹے

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
یہ شعر و ادب کی محفل تھی، اور کوشش تھی کہ کوئی تشنہ کام نہ لوٹے۔
یہاں سب کی دلچسپی کا سامان موجود تھا، مشاعرہ بھی، قوالی بھی، کتابوں کا اجرا بھی، غالب کے کلام کا ذکر بھی اور مضطر خیرآبادی کے کھوئے ہوئے کلام سے تعارف بھی۔ گوپی چند نارنگ، انور مقصود، گلزار، جاوید اختر، شبانہ اعظمی، نندیتا داس، زہرہ نگاہ، شمیم حنفی۔۔۔ ممتاز شخصیات کی فہرست لمبی تھی۔

موقع تھا جشن ریختہ کا، اردو زبان کا ایک جشن جو دہلی کے ادبی کیلنڈر کا حصہ بنتا جا رہا ہے اور جس کے منتظم سنجیو صراف اردو کو قائم و دائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
گلزار نے کہا کہ اردو کو وقت کے ساتھ بدلنا ہوگا لیکن فوری ضرورت اردو رسم الخط کو مقبول بنانے کی ہے کیونکہ ہندوستان میں نوجوان نسل اب اردو پڑھنا نہیں جانتی۔

’یہ بہت خوبصورت رسم الخط ہے، اسے فروغ دینے کی ضرورت ہے۔۔۔ اردو رسم الخط (نمایاں طور پر) نظر آنا چاہیے۔۔۔ اردو زبان بدلے گی نہیں تو مر جائے گی، زبان کا بدلنا ضروری ہے، اگر کوئی بھی زبان وقت کے ساتھ نہیں بدلے گی تو کلاسک بتا کر طاق میں رکھ دی جائے گی۔‘
جاوید اختر مانتے ہیں کہ مشکلات صرف اردو کو ہی نہیں، سبھی مقامی زبانوں کو درپیش ہیں۔

’بدقسمتی سے متوسط طبقہ اب مقامی زبانیں نہیں پڑھ رہا۔ ہمارا تعلیم کا سلسلہ ایسا ہوگیا ہے کہ ان کی پہلی زبان انگریزی ہوگئی ہے، اور وہ اپنی مادری زبانیں نہیں پڑھ رہے۔ جہاں تک اردو کا سوال ہے اس کے کچھ ناانصافیاں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن چونکہ زبان کمال کی خوبصورت ہے، اور اس میں بہت سے گن ہیں، اس لیے اردو سے محبت کرنے والے بڑھ رہے ہیں اور دیوناگری میں جو اردو شاعری چھپ رہی ہے وہ بے پناہ بکتی ہے۔‘

مشہور ادیب شمیم حنفی کہتے ہیں کہ اردو سیاست کا شکار ہوگئی ہے۔ ’اردو ایک مشترکہ اور روادارنہ کلچر کی یادگار ہے۔۔۔ لیکن 1947 کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ یہ زبان شاید ہماری نہیں پرائی ہے، اور اسے ایک طرح کا دیس نکالا دے دیا گیا۔ جب تک حکومتی سطح پر اردو زبان کے پڑھنے پڑھانے کا انتظام درست نہیں ہوتا، حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ اردو کو مسلمانوں سے وابستہ کر دیا گیا ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

شمیم حنفی کہتے ہیں کہ ’اس وقت دہلی میں سب سے بڑا مشاعرہ جشن بہار ایک غیرمسلم خاتون کامنا پرساد کراتی ہیں، ایک اور بڑے ادارے جشن ادب کے سربراہ رنجیت چوہان ہیں، اور ان سب سے بڑا ادارہ جشن ریختہ ہے جس کے سربراہ سنجیو صراف ہیں۔‘

جشن ریختہ کا مقصد اردو زبان کو نوجوانوں تک پہنچانا ہے، اور تین روزہ تقریبات کے دوران ہر محفل میں بڑی تعداد میں نوجوان نظر آئے۔ ان میں کالج کی طالب علم پرگتی اروڑا بھی شامل تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اردو سے میرا پہلے کوئی تعلق نہیں تھا، میری دلچسپی نئی ہے، کافی اچھی لینگوج ہے، کافی تہذیب والی لینگویج ہے، یہ بہت کم الفاظ میں بہت کچھ کہنے والی زبان ہے۔۔۔اور یہ تاثر غلط ہے کہ اس زبان میں صرف پرانے لوگوں کی دلچسپی ہے، ہم جیسے نوجوانوں کی بھی بہت دلچسپی ہے۔‘

جشن ریختہ اور اردو زبان کے لیے یہ اچھی خبر ہے، لیکن آتی ہے اردو زبان آتے آتے۔







