دہلی میں بہار سے قبل جشنِ بہار

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارتی دارالحکومت دہلی میں بہار کی آمد سے قبل جشن بہار مشاعرے کی دھوم رہی جس میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ امریکہ، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات سے بھی شاعروں نے شرکت کی۔
پاکستان سے آنے والے شاعروں میں پیر زادہ قاسم، امجد اسلام امجد، ریحانہ روحی اور عباس تابش شامل تھے جبکہ بھارت کی نمائندگی پروفیسر وسیم بریلوی، فرحت احساس، آلوک شریواستو، نسیم نکہت، پاپولر میرٹھی، نصرت مہدی، دیپتی مسرا اور جانی فاسٹر کر رہے تھے۔
مشاعرے میں شریک کامنا پرساد نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اردو کسی ایک فرقے کی زبان ہے تو وہ فرقہ ہندوستان ہے۔
خیال رہے کہ بھارت میں گذشتہ کئی ماہ سے عدم رواداری پر بحث جاری ہے اور اس کی گونچ ساہتیہ اکیڈمی کے ایوارڈ کی واپس سے لے کر بالی وڈ، جے پور ادبی میلے کے بعد جشن بہار میں بھی نظر آئی۔

،تصویر کا ذریعہ
پاکستان کے شاعروں نے کہا کہ دونوں ممالک کو سمجھنے اور قریب لانے میں اردو زبان اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور مشاعرے اس کا اہم ذریعہ ہیں۔
بھارت کے معروف شاعر وسیم بریلوی نے کہا: پاکستان میں بھارت کے شاعروں پڑھا اور جانا جاتا ہے جبکہ اردو زبان اب دیوناگری اور رومن سکرپٹ میں بھی مقبول ہو رہی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان خلیج کو پاٹنے میں اس کا کلیدی کردار ہو سکتا ہے۔
کامنا پرساد نے کہا: آج دنیا اور بطور خاص برصغیر کو منقسم کرنے والی قوتوں عدم رواداری سے متاثر ہیں ایسے میں وسیع القلبی، روحانیت اور ادب ہی جنگ وجدل سے نبرد آزما دنیا اور عدم رواداری کا جواب ہیں۔
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے کہا: آج جبکہ اردو کو متعدد مسائل درپیش ہیں مشاعرہ جشن بہار اس خوبصورت زبان کی خدمت میں ایک تحفہ ہے جو ہماری بہترین مشترک گنگا جمنی تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
کشمیر کے سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا: مشاعرے ہماری مشترکہ تہذیب کو سمجھنے اور محبت کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کا اہم ذریعے ہیں۔
پاکستان کے معروف شاعر پیر زادہ قاسم جنھیں پہلی بار سنہ 1990 میں سننے کا اتفاق ہوا تھا۔ ان کا شعر تھا:
شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگی
صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو
ان سے لوگوں نے پھر سے ایک پرانی غزل کی فرمائش کی۔ مشاعرے میں پڑھے جانے والے چند اشعار۔
خون سے جب جلا دیا، ایک دیا بجھا ہوا
پھر مجھے دے دیا گیا، ایک دیا بجھا ہوا (پیر زادہ قاسم، پاکستان)
تو سمجھتا ہے کہ رشتے کی دہائی دیں گے
ہم تو وہ ہیں، ترے چہرے میں دکھائی دیں گے (پروفیسر وسیم بریلوی، بھارت)
کہتے تھے ایک پل نہ جیں گے ترے بغیر
ہم دونوں رہ گئے ہیں وہ وعدہ نہیں رہا (امجد السلام امجد، پاکستان)
مجھے سمجھو یہ دیوانگی ہے
میں کیوں خود سے بھلا اتنا خفا ہوں (فرحت شہزاد، امریکہ)
حالات کیسے دوستو اس گھر کے ہو گئے
شیشہ مزاج لوگ بھی پتھر کے ہو گئے (منظور عثمانی، بھارت)
علاج اپنا کراتے پھر رہے ہیں جانے کس کس سے
محبت کرکے دیکھو، محبت کیوں نہیں کرتے (فرحت احساس، بھارت)







