دہلی میں جشنِ بہار

- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
اردو کے معروف شاعر میر تقی میر نے دہلی کو ’عالم میں انتخاب‘ یوں ہی نہیں کہا تھا۔
جمعے اور سنیچر کی شب دہلی میں اردو اور اردو شاعری سے محبت کرنے والوں نے ایک ایسے مشاعرے کو براہ راست اور بالواسطہ دیکھا اور سنا جو واقعتا عالم میں انتخاب ہی کہا جا سکتا ہے۔
اس میں شرکت کرنے والے شاعروں میں بر صغیر بھارت اور پاکستان کے علاوہ چین، امریکہ، کینیڈا اور سعودی عرب سے آنے والے شعرا بھی شامل تھے۔
مشاعرے کی صدارت معروف صحافی کلدیپ نیر نے کی جبکہ اس کے مہمان خصوصی معروف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے رواں وائس چانسلر لیفٹینینٹ جنرل ضمیرالدین شاہ تھے۔
کلدیپ نیر نے اپنے صدارتی کلمات میں اس بات کا اعتراف کیا کہ انھوں نے اپنے صحافتی کریئر کا آغاز اردو سے ہی کیا تھا لیکن اردو کے مستقبل پر نظر رکھنے والے افراد مایوسی کا شکار تھے اور انھوں نے ان کو انگریزی صحافت کا دامن تھامنے کی ترغیب دی تھی اور وہ انگریزی صحافی بن گئے۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’گاندھی جی نے جہموریت اور سیکولرازم کے تحت جو بھارت کا تصور دیا تھا وہ کمزور پڑ رہا ہے۔‘
مشاعرہ جشنِ بہار ٹرسٹ کی بانی اور اردو کی رضاکار کامنا پرشاد نے کہا ’مشاعرہ ہر قسم کی تفریق اور تقسیم کی مخالفت کرتا ہے۔ اس میں شریک ہونے والوں کا صرف ایک ہی مذہب ہے، مذہب دل۔ یہاں فرقوں کا تصادم نہیں فرقوں کی آمیزش ہوتی ہے، طبقات کی کشمکش نہیں بلکہ طبقات کا اتحاد ہے۔‘
خیال رہے کہ جشنِ بہار مشاعرہ گذشتہ 17سال سے جاری ہے اوراس کے بانیوں میں ممتاز پینٹر مقبول فدا حسین ہوا کرتے تھے اور اس میں کبھی احمد فراز جیسے مایہ ناز شاعر پابندی سے شرکت کیا کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بار کے مشاعرے کی کشش جہاں بھارت سے وسیم بریلوی تھے وہیں پاکستان سے کشور ناہید، امجد الاسلام امجد، عنبرین حسیب، چین سے ژانگ شی زوان (جس کا اردو ترجمہ انتخاب عالم ہوتا ہے)، نیویارک سے عبداللہ عبداللہ، کینیڈا سے اشفاق حسین اور سعودی عرب سے عمر سلیم الادروس شامل تھے۔
شاعروں میں جاوید اختر اور منور رعنا کے بھی نام تھے لیکن دونوں حاضر نہ ہو سکے۔

کشور ناہید نے اس موقعے پر جہاں اپنی شاعری سے خواتین اور ہندو پاک اتحاد کی باتیں کیں وہیں عبداللہ عبداللہ نے امریکہ میں محفلِ مشاعرہ کے انعقاد کے چلن اور علی گڑھ کی انجمن کی بات کی۔
کشور ناہید نے کئی مختصر نظمیں سنائی جبکہ ان کی غزلوں کے ان اشعار کو سامعین کی جانب سے خوب داد ملی:
تجھ سے وعدہ عزیزتر رکھا
وحشتوں کو بھی اپنے گھر رکھا
اپنی بے چہرگی چھپانے کو
آئینے کو ادھر ادھر رکھا
اس قدر تھا اداس موسم گل
ہم نے آب رواں پر سر رکھا
اشفاق حسین نے سامعین کی فرمائش پر اپنی معروف نظم ’فوکس‘ سنائی جبکہ ان کے ان اشعار نے ہجرتوں کی بات کی:
کئی موسم گئے پر ہجرتوں کا دکھا ابھی تک ہے
سناٹا مرے اندر کا میری زندگی تک ہے

جبکہ پاکستان کے معروف شاعر امجد الاسلام امجد نے اپنے تازہ کلام کے علاوہ سامعین کی فرمائش پر پرانے کلام سے بھی نوازا۔
حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے
ہر پل دھیان میں بسنے والے لوگ افسانے ہو جاتے ہیں
آنکھیں بوڑھی ہو جاتی ہیں خواب پرانے ہو جاتے ہیں
جھونپڑیوں میں ہر اک تلخی پیدا ہوتے مل جاتی ہے
اسی لیے تو وقت سے پہلے طفل سیانے ہوجاتے ہیں
موسم عشق کی آہٹ سے ہی ہر اک چیز بدل جاتی ہے
راتیں پاگل کردیتی ہیں دن دیوانے ہو جاتے ہیں
دنیا کے اس شور نے امجد کیا کیا ہم سے چھین لیا ہے
خود سے بات کیے بھی اب تو کئی زمانے ہو جاتے ہیں
بعض پسندیدہ اشعار اس طرح تھے:
زندگی خیر کر طلب اپنی
میں تیرا زہر پی کے جیتا ہوں
ریت کے تپتے سہراؤں میں دور سے جتنی ندیاں دیکھیں
پاس آکر معلوم ہوا وہ ساری ریت کی لہریں تھیں
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ
وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی
اپنی شرطوں پہ جیے اس سے گذارش نہیں کی
عنبریں حسیب
چھوڑ کر ذکر میرا چھاپ دیا ہے سب کچھ
اور اس شہر کے اخبار سے کیا چاہتے ہو
منصور عثمانی
خزاں کی زرد سی رنگت بدل بھی سکتی ہے
بہار آنے کی صورت نکل بھی سکتی ہے
ابھی تو چاک پہ مٹی کا رقص جاری ہے
ابھی کمہار کی نیت بدل بھی سکتی ہے
علینہ عطرت
میں سرفراز ہوں تاریخ کے کرداروں میں
میں رہی شعلہ نوا شام کے بازاروں میں
میں محبت کی علامت میں وفا کی تصوری
میں ہی چنوائی گئی قصر کی دیواروں میں
قدر یوسف کی زمانے کو بتائی میں نے
تم تو بیچ آئے اسے مصر کے بازاروں میں
مینو بخشی







