’آسکر نامزدگیوں میں تنوع کی کمی نے دل توڑ دیا‘

،تصویر کا ذریعہAP
دنیا کے سب سے معتبر سمجھے جانے والے ایوارڈز، آسکرز دینے والی اکیڈمی آف موشن پکچرز کی سربراہ چیرل بُون آئزیکس نے کہا ہے کہ وہ ان ایوارڈز کی رکنیت کے’خدوخال کی تبدیلی‘ کے لیے اہم اقدامات کرنے والی ہیں۔
خیال رہے کہ ہالی وڈ کے پروڈیوسر سپائک لی اور اداکارہ جاڈا پنکٹ سمتھ نے ایوارڈز کے لیے زیادہ تر سفید فام امیدواروں کی نامزدگی کے بعد رواں سال آسکر کی تقریب میں شرکت سے انکارکر دیا ہے۔
چیرل آئزیکس نے آسکر کے لیے نامزد تمام امیدواروں کے ’بہترین کام‘ کو سراہا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ نامزدگیوں میں تنوع کی کمی نے ان کا ’دل توڑ دیا‘ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں ’ڈرامائی تبدیلیاں‘ لانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
چیرل نے کہا ’آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ہم رکنیت کے لیے کی جانے والی بھرتیوں کا ازسرِنو جائزہ لیں گے تاکہ سنہ 2016 کے ایوارڈز اور اس کے بعد آنے والے موقعوں پر اس تنوع کو ان ایوارڈز کا حصہ بنایا جا سکے جس کی انھیں شدید ضرورت ہے۔‘
اس سال چیرل بُون آئزیکس نے 28 فروری کو منعقد ہونے والی تقریب کی میزبانی سیاہ فام مزاحیہ اداکار کرس روک کو سونپ کر تقریب کو مختلف بنانے کی کوشش کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ.
آسکر ایوارڈز کی نامزدگیوں کے لیے ترتیب دی جانے والی کمیٹی کے اراکین کا تعلق فلم انڈسٹری سے ہوتا ہے جو ہر سال اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرکے اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کن افراد اور فلموں کو آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد کرنا ہے۔
بُون آئزیکس کہتی ہیں کہ ’یہ ایک مشکل لیکن اہم مکالمہ ہے اور اب بڑی اور اہم تبدیلیاں لانے کا وقت آگیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’آپ میں سے کئی لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ گذشتہ چار سالوں سے ہم اپنی اراکین کی رکنیت میں تنوع لانے کے لیے تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ لیکن ان تبدیلیوں کی رفتار اتنی نہیں جتنی کہ ہم چاہتے ہیں۔ ہمیں اس کے لیے اور زیادہ، بہتر، اور مزید جلد کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ اقدامات اکیڈمی کے لیے ’بےنظیر‘ نہیں ہیں بلکہ 60 اور 70 کی دہائیوں میں بھی نوجوان اراکین کی بھرتیاں کی گئی تھیں اور آج کے دور میں یہ اختیارات تمام ’اصناف، نسل، قومیت، اور جنسی رجحان‘ کو شامل کرنے کے لیے ہیں۔







