سپین کی لالہ گنا رویو نئی حسینہِ عالم

گذشتہ سال کی مس ورلڈ جنوبی افریقہ کی رولینے سٹراس نے سپین کی رويو کو مس ورلڈ کا تاج پہنایا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال کی مس ورلڈ جنوبی افریقہ کی رولینے سٹراس نے سپین کی رويو کو مس ورلڈ کا تاج پہنایا

سپین کی میریا لالہ گنا رویو مس ورلڈ 2015 قرار پائی ہیں۔

چین کے جنوبی شہر سانیا میں انھوں نے 100 سے بھی زیادہ ممالک کی حسیناؤں کو شکست دے کر یہ خطاب حاصل کیا ہے۔

روس کی صوفیہ نكیچك رنرز اپ رہیں جبکہ انڈونیشیا کی ماریا ہرفنتی نے تیسرا مقام حاصل کیا۔

لالہ گنا کو بہترین ماڈل کے درجے میں بہترین قرار دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنلالہ گنا کو بہترین ماڈل کے درجے میں بہترین قرار دیا گیا تھا

مس ورلڈ کا خطاب حاصل کرنے کے بعد بارسلونا کی 23 سالہ ماڈل لالہ گنا نے کہا ’میرے خیال سے یہ ایک اچھا فیصلہ ہے کیونکہ مس ورلڈ میں ہمارے جسم کو نہیں بلکہ ہماری روح کو دیکھا جاتا ہے۔‘

انھوں نے فارمیسی میں ڈگری حاصل کی ہے اور غذائیت میں ماسٹرز کرنا چاہتی ہیں۔ خیال رہے کہ ٹاپ ماڈلنگ کے زمرے میں بھی وہ سرفہرست رہیں اور پھر انھوں نے ججز کو اپنے خطاب عام کے دوران متاثر کر کے یہ خطاب حاصل کیا۔

روس کی صوفیہ نكیچك رنرز اپ رہیں جبکہ انڈونیشیا کی ماریا ہرفنتی نے تیسرا مقام حاصل کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروس کی صوفیہ نكیچك رنرز اپ رہیں جبکہ انڈونیشیا کی ماریا ہرفنتی نے تیسرا مقام حاصل کیا

چین کے سانیا شہر میں ہونے والے رواں سال کے مس ورلڈ کے فائنل مقابلے کو دنیا بھر میں تقریبا ایک ارب لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا۔

گذشتہ سال منتخب ہونے والی مس ورلڈ جنوبی افریقہ کی رولین سٹراس نے سپین کی رويو کو مس ورلڈ کا تاج پہنایا۔

اس مقابلے کی اہم دعویدار تسلیم کی جانے والی بھارت کی آدیتی آریہ اور انگلینڈ کی نتاشا ہمنگس کو پہلی 20 فائنلسٹوں میں بھی جگہ نہیں مل سکی۔

اینستاسیا کو ایئر پورٹ سے ہی واپس ہونا پڑا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناینستاسیا کو ایئر پورٹ سے ہی واپس ہونا پڑا تھا

اس بار مس ورلڈ کا مقابلۂ حسن تنازعات کا بھی شکار رہا کیونکہ اس میں چینی نژاد مس کینیڈا اینستاسيا لن کو اس مقابلۂ حسن میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

مس کینیڈا لن کو چین جانے والے طیارے پرسوار نہیں ہونے دیا گيا۔

اس میں 114 ممالک کی ملکۂ حسن نے شرکت کی تھی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس میں 114 ممالک کی ملکۂ حسن نے شرکت کی تھی

اینستاسيا چین کی مذہبی پالیسی کی ناقد رہی ہیں اور وہ فالن گونگ عقیدے کی پیروکار ہیں جس پر چین میں سنہ 1999 سے پابندی عائد ہے۔

پہلی بار مس ورلڈ کا مقابلہ 64 سال قبل لندن میں ہوا تھاجس میں سویڈن کی کک ہاکونسن فاتح رہی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا ذریعہEPA