شمالی کورین بینڈ چین میں فن کا جادو جگانے کے لیے تیار

 یہ بینڈ اپنے پرجوش اور مغربی انداز میں فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے مشہور ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن یہ بینڈ اپنے پرجوش اور مغربی انداز میں فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے مشہور ہے

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اپنے روایتی حیلف چین کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے لیے ایک پاپ بینڈ کو بیجنگ بھیجا ہے جس کی تمام اراکین خواتین ہیں۔

شمالی کوریا کی سرکاری ایجنسی (کے سی این کے) کے مطابق مورن بونگ نامی یہ بینڈ جس کا انتخاب مسٹر کم نے کیا ہے، چین میں ’دوستانہ فن‘ کا مظاہرہ کرے گا۔

فوجی یونیفارم میں ملبوس خواتین موسیقاروں کو پیانگ یانگ کے سٹیشن پر پارٹی کے سینیئر اہلکاروں اور چینی سفیر نے الوداع کہا جس سے اس گروپ کے پہلے بیرونی دورے کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

یہ دورہ اس بات کا عکاس ہے کہ دونوں ممالک کے پرانے اتحاد کو ایک مرتبہ پھر سے بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب شمالی کوریا نے سنہ 2013 میں تیسرا جوہری تجربہ کیا تھا۔

چین کی خبر ایجنسی شین وا کا کہنا ہے کہ یہ بینڈ بیجنگ میں نیشنل سینٹر فار پرفارمنگ آرٹس میں 12 سے 14 دسمبر تک اپنے فن کا مظاہرہ کرے گا۔

مورن بونگ سنہ 2012 میں کم جونگ کے حکم پر بنایا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمورن بونگ سنہ 2012 میں کم جونگ کے حکم پر بنایا گیا تھا

یہ بینڈ آخری مرتبہ ستمبر میں عالمی خبروں میں آیا تھا جب افواہیں گرم تھیں کہ اس کے ارکان کہیں غائب ہوگئے ہیں۔ لیکن ان کے زوال کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔

مورن بونگ سنہ 2012 میں کم جونگ کے حکم پر بنایا گیا تھا اور اسے شمالی کوریا کے موجودہ سربراہ کے والد کم جنگ ال پسند کرتے تھے۔

شمالی کوریا کی مطلق العنان حکومت کے معیار کے مطابق یہ بینڈ اپنے پرجوش اور مغربی انداز میں فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے مشہور ہے۔ اس کے گیتوں میں شمالی کوریا کا پروپیگینڈا ہوتا ہے جیسے ’تھنک آف دی مارشل (مسٹر کم) ڈے اینڈ نائٹ‘ اور ’مائی کنٹری از دا بیسٹ‘ جیسے گیت شامل ہیں۔ لیکن مغرب کی چھاپ والے گیت جیسے ’تھیم فرام راکی‘ بھی اسی بینڈ کے گیتوں میں شامل ہیں۔