’اب میں کچھ نہیں بولوں گا‘

شاہ رخ نے تسلیم کیا کہ وہ بہت سوچنے کے بعد اس فیصلے پر پہنچے ہیں کہ کئی ایسے مسائل ہیں جن پر انھیں بولنا ہی نہیں چاہیے
،تصویر کا کیپشنشاہ رخ نے تسلیم کیا کہ وہ بہت سوچنے کے بعد اس فیصلے پر پہنچے ہیں کہ کئی ایسے مسائل ہیں جن پر انھیں بولنا ہی نہیں چاہیے

گذشہ کچھ عرصے سے بھارت میں ’عدم برداشت‘ کے معاملہ موضوع بحث ہے۔ اسی آنچ میں اداکار عامر خان اور شاہ رخ خان بھی آ چکے ہیں۔

اس متنازعہ مسئلے سے بچنے کے لیے شاہ رخ خان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب کسی معاملے پر بولیں گے ہی نہیں۔

اپنی سالگرہ پر میڈیا کو ایک انٹرویو میں انھوں نے ملک میں ’خوف اور عدم برداشت کے ماحول‘ کا ذکر کیا تھا جس کے بعد ان پر کافی تنقید ہوئی تھی۔

اب شاہ رخ خان کہتے ہیں کہ ’میں اپنا منہ نہیں كھولوں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اگر میں نے منہ کھولا تو تنازع ہو جائے گا‘

شاہ رخ آج کل اپنی فلم ’دلوالے‘ کی تشہیر میں مصروف ہیں اور اسی سلسلے میں انھوں نے عدم برداشت اور عامرخان کے بارے میں سوالات پر عامر خان کا دفاع کیا۔

انھوں نے کہا: ’اگر میں کسی مسئلے پر بات کر رہا ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اپنا فیصلہ سنا رہا ہوں بلکہ میں اپنی رائے عوام کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ ہم نے کچھ کہا ہے، تو وہ پتھر کی لکیر نہیں ہے۔‘

اپنی سالگرہ پر میڈیا کو ایک انٹرویو میں انھوں نے ملک میں ’خوف اور عدم برداشت کے ماحول‘ کا ذکر کیا تھا جس کے بعد ان پر کافی تنقید ہوئی تھی
،تصویر کا کیپشناپنی سالگرہ پر میڈیا کو ایک انٹرویو میں انھوں نے ملک میں ’خوف اور عدم برداشت کے ماحول‘ کا ذکر کیا تھا جس کے بعد ان پر کافی تنقید ہوئی تھی

شاہ رخ کہتے ہیں کہ اگر کوئی صرف اپنی بات کہہ رہا ہو، آپ اس کو سننے کو بھی تیار نہیں اور کہیں کہ یہ آدمی ایسا کیسے کہہ سکتا ہے تو یہ سوچنا حماقت ہے۔

’میں نے اپنے بچوں کو بھی یہی کہتا ہوں کہ اگر ماڈرن ہونا ہے تو مذہب، ذات پات، لڑکا، لڑکی میں کون زیادہ ہے اور کون کم، یہ کبھی مت سوچنا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جس کا جو کام ہے، اسے وہی کرنا چاہیے۔ ہم اداکار بھانڈ ہیں اور ہمیں صرف بھاڈگيري ہی کرنی چاہیے۔ ہمیں صرف گانے بجانے پر ہی توجہ دینا چاہیے۔ ہمیں نہیں معلوم سیاست کے بارے میں، ہمیں نہیں پتہ معیشت کے بارے میں، ہمیں نہیں پتہ کھیتی باڑی کے بارے میں۔ ہم کو صرف ہماری فلم کے بارے میں معلوم ہے۔ قطرینہ کا آخری گانا کون سا اچھا لگا تھا، یہ میں بتا دوں گا کیونکہ میں اس شعبے میں کام کرتا ہوں۔‘

شاہ رخ نے تسلیم کیا کہ وہ بہت سوچنے کے بعد اس فیصلے پر پہنچے ہیں کہ کئی ایسے مسائل ہیں جن پر انھیں بولنا ہی نہیں چاہیے۔

شاہ رخ نے کہا کہ ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے بات کرنا نہیں آتی یا مجھے ان باتوں کا علم نہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ میرے بولنے سے میری باتوں کو غلط طریقے سے سمجھنا یا اسے پیش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔‘