شمالی وزیرستان سے چیغہ

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں جب بھی شمالی وزیرستان کا ذکر ہوتا ہے تو سب سے پہلے ذہن میں دہشت گردی، بم دھماکوں، خودکش حملوں، فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں کا خیال آتا ہے۔ گذشتہ ایک دہائی کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وزیرستان سے جنگ اور بدامنی کے علاوہ کوئی اور خبر کم ہی دیکھنے میں آئی ہے۔
ذرائع ابلاغ میں یہ علاقہ بظاہر اتنا بدنام بتایا گیا ہے کہ ملک کی بیشتر آبادی شاید یہی سمجھتی ہوگی کہ جیسے اس علاقے میں کوئی وحشی، درندے یا کوئی اور مخلوق رہتی ہے جو جنگ و جدال کے علاوہ اور کچھ نہیں جانتی۔
لیکن اب شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک سنئیر بیوروکریٹ اور سیکریٹری سطح کے افسر غلام قادر خان دواڑ نے اس علاقے کی دیہاتی زندگی، تاریخ ، مقامی ثقافت اور دیگر حقائق سے متعلق ایک کتاب لکھ کر اس تاثر کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وزیرستان صرف جنگ و جدال کا نام ہے یا وزیرستان کے باشندے دہشت گرد ہیں۔
انگریزی زبان میں لکھی گئی یہ کتاب ’چیغہ‘ یعنی ’دی کال ‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ چیغہ پشتو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چیخ کے ہیں۔
کتاب کا نام چیغہ یا چیخ اس وجہ سے رکھا گیا ہے کیونکہ مصنف کتاب میں بار بار دنیا کو پکار رہا ہے کہ شمالی وزیرستان دہشت گردی کا منبہ نہیں بلکہ ایک جنت اور پرامن علاقہ تھا جہاں زندگی کے وہ تمام رنگ موجود تھے جو کسی پرامن علاقے میں ہوتے ہیں۔
چیغہ پشتون معاشرے کا ایک اصول بھی ہے جس کے تحت جب کسی مظلوم کو بچانے کےلیے کوئی لشکر نکل پڑتا ہے اسے بھی چیغہ کہتے ہے۔

کتاب زیادہ تر مصنف کے اپنے تجربات پر مبنی ہے جو وزیرستان میں ان کی گزری ہوئی بچپن سے متعلق ہوں یا فاٹا میں ان کی عملی زندگی کے بارے میں ہیں ۔ سول سرونٹ کی حیثیت سے وہ قبائلی علاقوں میں پولیٹکل ایجنٹ ، ڈپٹی کمشنر اور سیکریٹری سکیورٹی فاٹا کے عہدوں پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔
کتاب کا ایک بڑا حصہ پشتون قبائلی معاشرے ، ان کے روایات، طور طریقوں، ثقافت اور تہواروں سے متعلق ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فاٹا میں دہشت گردی سے متعلق اب تک کئی کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن ان میں بیشتر مصنفین ایسے ہیں جن کا تعلق قبائلی علاقوں سے نہیں تھا۔ چیغہ کو اس لیے بھی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کتاب کے مصنف نے اس علاقے میں پرورش پائی ہے جو اس کتاب کا موضوع ہے۔
385 صفات پر مشتمل کتاب میں 70 صحفات صرف ’پشتون ولی‘ پر لکھے گئے ہیں۔ پشتون ولی وہ اصول ہیں جس پر پشتون معاشرے کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔







