بھارتی ادبی حلقوں کا احتجاج، سلمان رشدی کی حمایت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
معروف مصنف اور بُکر انعام یافتہ سلمان رشدی نے بھارت میں اظہار آزادی کی مخالفت اور بڑھتی عدم رواداری کے خلاف بھارتی ادبی حلقوں، دانشوروں اور مصنفین کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کی حمایت کی ہے۔
اپنی کتاب ’سیٹینک ورسیز‘ کے حوالے سے مسلم تنظیموں کے نشانے پر رہنے والے رشدی نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا : ’میں ساہتیہ اکیڈمی سے احتجاج درج کرانے والی نين تارا سہگل اور دیگر بہت سے مصنفین کی حمایت کرتا ہوں۔ بھارت میں اظہار رائے کی آزادی کے لیے یہ مشکل وقت ہے۔‘
بھارت میں حالیہ دنوں میں کئی مصنفین، سماجی کارکنوں اور دانشوروں پر حملوں کی مخالفت میں سب سے پہلے ادیبہ نين تارا سہگل نے اپنا ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہOther
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اب تک 16 مصنف بطور احتجاج اپنا ادبی اکیڈمی ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
ان مصنفین میں کشمیری مصنف نبی خیال، اردو ناول نگار رحمٰن عباس، کنڑا زبان کے مصنف شري ناتھ، ہندی مصنف منگلیش ڈبرال اور راجیش جوشی سمیت کئی بڑے نام شامل ہیں۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بھارتی ادبی اکیڈمی کے صدر وشوناتھ پرساد تیواری نے کہا ہے کہ انسٹیٹیوٹ بھارتی آئین میں محفوظ سیکولر اقدار کی پوری طرح پابند ہے اور اس کے لیے پر عزم ہے۔
کنڑا مصنف ایم ایم كلبرگي کے قتل کے بعد گزشتہ دنوں دادری کے بہساڑا گاؤں میں گائے کےگوشت کی افواہ پر ایک شخص کے قتل کے بعد ملک میں بڑھتی فرقہ واریت کے حوالے سے بحث چھڑی ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAshok Vajpeyi
ملک کے معروف مصنفین، جنہوں نے اپنے انعامات و اعزازات واپس کیے ہیں، نے ان واقعات پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہندی کے معروف شاعر اشوک واجپئی نے اپنا ایوارڈ یہ کہتے ہوئے واپس کردیا تھا کہ حکومت ’عوام اور قلم کاروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی حکومت ہندو شدت پسندوں کو اقلیتوں اور مصنفوں کو نشانہ بنانے سے روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔
سہگل نے ایک بیان بعنوان ’ان میکنگ آف انڈیا‘ میں گذشتہ ہفتے گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ایک مسلمان کے قتل کے ساتھ ایم ایم کالبرگی، نریندر دابھولکر اور گووند پانسرے کے قتل کا ذکر کیا تھا۔







