بالی وڈ کے بڑے ستاروں کے روز و شب کیسے گزرتے ہیں؟

تقریباً سبھی پیشہ ور افراد کی عام شکایت یہ ہوتی ہے کہ کام کی وجہ سے انھیں خود اپنے لیے اور خاندان کے لیے وقت نہیں ملتا۔
حال ہی میں سویڈن نے کام کے اوقات کو کم کر کے چھ گھنٹے کر دیا ہے اور لندن میں بھی یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ کام کے لیے آنے جانے کے اوقات کو بھی کام کے گھنٹوں کے طور پر شمار کیا جائے۔
لیکن کیا واقعی ہم اتنے مصروف ہوتے ہیں؟ کیونکہ 24 گھنٹے مصروف رہنے والی گلیمر انڈسٹری کی شخصیات کو کبھی یہ شکایت نہیں رہتی کہ ان کے کام کے اوقات زیادہ ہیں۔
سلمان خان
سلمان کہتے ہیں: ’میں خاندان اور دوستوں کے ساتھ فلمیں کرتا ہوں اور اس کے ہوتے ہوئے مجھے کبھی خاندان اور دوستوں کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔‘

سلمان شوٹنگ کے اوقات مکمل ہو جانے کے بعد گھر پہنچتے ہیں اور اپنے قریبی دوست احباب کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
آج کل فارغ وقت میں سلمان کا پسندیدہ شوق ٹویٹ کرنا ہے۔ سلمان کہتے ہیں: ’یہ مجھے شوٹنگ کے دوران بھی چاہنے والوں اور دوستوں سے جوڑے رکھتا ہے۔‘
شاہ رخ خان
کنگ خان صرف اداکار ہی نہیں، کامیاب بزنس مین بھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک آئی پی ایل ٹیم کے مالک شاہ رخ خان کے پاس فلم پروڈکشن کی کمپنی ’ریڈ چليز انٹرٹینمنٹ‘ کا کام بھی ہے اور پھر وہ ٹی وی شوز بھی کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسے میں شاہ رخ ’ورک بیلنس‘ کس طرح بناتے ہیں؟
شاہ رخ کہتے ہیں: ’میں سوتا بہت کم ہوں کیونکہ مجھے برانڈ ’شاہ رخ‘ کے لیے کام کرنا ہوتا ہے۔ عام لوگوں کے پاس 12 گھنٹے کام کے اور 12 گھنٹے سونے کے ہوتے ہیں لیکن میرے پاس 20 سے 21 گھنٹے کام کے لیے ہوتے ہیں۔‘
اکشے کمار
اداکار اکشے کمار انتہائی نظم و ضبط کی زندگی جیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’آج کل فلموں میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کو ان کا پروموشن بھی کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں ہمیں بھی زیادہ گھنٹے کام کے لیے نکالنے پڑتے ہیں۔‘
لیکن فٹنس فريك اکشے کمار کے لیے کام کا پسندیدہ وقت صبح ہے اور ایسے میں وہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ کام صبح کے اوقات میں ہی نمٹا لیں۔
وہ کہتے ہیں: ’میں صبح پانچ بجے بھی انٹرویو دے چکا ہوں، اس سے آپ دن بھر کے لیے فارغ ہو جاتے ہو اور بعد کے ٹریفک سے بھی بچ جاتے ہو۔‘
اکشے کہتے ہیں کہ وہ ہر چھ ماہ بعد خاندان کے ساتھ 15 سے 20 دن کی چھٹی پر بھی جاتے ہیں۔
عالیہ بھٹ

،تصویر کا ذریعہ
22 سالہ اس اداکارہ کو ورک لائف بیلنس کی کوئی شکایت نہیں ہے۔
عالیہ کہتی ہیں: ’ابھی تو میں جوان ہوں، یہی میری عمر ہے کام کرنے کی اور اب تو میں بہت مصروف رہنا چاہتی ہوں۔‘
عالیہ کو اب خاندان کے لیے وقت کی فکر نہیں ہے کیونکہ وہ جو کام کر رہی ہیں وہ ان کے لیے حیرت انگیز ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’ہاں مجھے ایک فائدہ ہے کہ میرے دوست اسی انڈسٹری سے ہیں تو مجھے تنہائی کا احساس نہیں ہوتا۔‘







