’اب ہیروازم والی کہانیوں کی جگہ کرداروں والی کہانیاں آ رہی ہیں‘

ہمانشوشرما کا کہنا ہے کہ دس برس پہلے ’کوئن‘ اور ’پيكو‘ جیسی فلموں کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا

،تصویر کا ذریعہpr

،تصویر کا کیپشنہمانشوشرما کا کہنا ہے کہ دس برس پہلے ’کوئن‘ اور ’پيكو‘ جیسی فلموں کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا

حالیہ برسوں میں کوئن، وکی ڈونر، تنو ویڈز‎ منو، پيكو اور تنو ویڈز منو ریٹرنز جیسی فلموں نے نہ صرف نئے طرح کا سینما پیش کیا ہے بلکہ فلم انڈسٹری کو سکرپٹ لکھنے والے نئے سکرپٹ رائٹر بھی دیے ہیں۔

ان مذکورہ فلموں میں نہ تو نام نہاد سٹار پاور تھی اور نہ ہی بالی وڈ مصالحہ موی فارمولا، لیکن اس کے باوجود ان فلموں نے شائقین کو خوب تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ہی باکس آفس پر بھی اچھی خاصی کمائی کی۔

اسی کا اثر ہے کہ ان دنوں بالی وڈ کی فلموں میں کہانیوں کے موضوع سے لے کر انھیں پیش کرنے کا طور طریقہ بھی بدلا ہے۔

ویسے تو آج بھی ایک خاص اداکار کی مرکزیت والی فلمیں بن رہی ہیں لیکن اب ان فلموں کی تعداد بڑھ گئی ہے جن میں کہانی اور کرداروں کو مرکزی درجہ حاصل ہوتا ہے۔

سنہ 2011 میں آئی فلم ’تنو ویڈز منو‘ نے کنگنا رناوت کو ایک مضبوط اداکارہ کے طور پر ناظرین کے سامنے پیش کیا تھا۔

تنو ویڈز منو جیسی فلموں کا اثر ہے کہ ان دنوں بالی وڈ کی فلموں میں کہانیوں کے موضوع سے لے کر انہیں پیش کرنے کا طور طریقہ بھی بدلا ہے
،تصویر کا کیپشنتنو ویڈز منو جیسی فلموں کا اثر ہے کہ ان دنوں بالی وڈ کی فلموں میں کہانیوں کے موضوع سے لے کر انہیں پیش کرنے کا طور طریقہ بھی بدلا ہے

بی بی سی نے جب اس فلم کا سکرپٹ لکھنے والے ہمانشو شرما سے بالی وڈ میں آنے والی اس تبدیلی کے بارے میں بات کی تو انھوں نے کہا: ‎’ہاں، تبدیلی تو آئي ہے۔ دس برس پہلے ’کوئن‘ اور ’پيكو‘ جیسی فلموں کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔‘

مختلف اور نئے موضوعات پر مبنی فلموں کے بارے میں ہمانشو کہتے ہیں: ’اب ناظرین کی بھی ایک بڑی تعداد نئے انداز کو پسند کرتی ہے۔ میں اس دور کو ایک اچھا وقت مانتا ہوں۔‘

ہمانشو اس تبدیلی کے لیے ناظرین اور فلمسازوں کی بدلتی سوچ کو ذمہ دار مانتے ہیں جو آج کل روایت سے ہٹ کر فلمیں بنانا چاہتے ہیں۔

ریسرچ اور تبادلہ خیال

فلم ’گینگز آ‌ف واسع پور‘ کے سکرپٹ رائٹر اور اداکار ذیشان قادری بھی تبدیلی کی بات تسلیم کرتے ہیں۔

انو راگ کشیپ جیسے ہدایت کار اپنی فلموں کے لیے ریسرچ ورک پر بہت کام کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہzeeshan quadri

،تصویر کا کیپشنانو راگ کشیپ جیسے ہدایت کار اپنی فلموں کے لیے ریسرچ ورک پر بہت کام کرتے ہیں

ذیشان قادری کا کہنا ہے کہ ’تبدیلی تو پہلے ہی سے تھی لیکن اب ایسی فلمیں زیادہ بننے لگی ہیں۔ اب ہیروازم والی کہانیوں کی جگہ کرداروں والی کہانیاں آ رہی ہیں۔‎‘

انھوں نے ڈائریکٹر انوراگ کشیپ اور تگمانشو دھوليا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’ایسے لوگ حقیقت کو پردے پر اتارنا چاہتے ہیں اسی لیے وہ اپنی ہر سکرپٹ پر تحقیق زیادہ کرتے ہیں۔‘

فلم کے سکرپٹ رائٹرز کے چيلنجوں کے بارے میں ہمانشو نے کہا: ’کانسیپٹ رائٹنگ سب سے بڑا دباؤ ہوتا ہے۔ بہت سے سکرپٹ رائٹرز کو اس سے گزرنا پڑتا ہے۔‘

ہمانشو کا خیال ہے کہ مرضی کے مطابق کام نہ کرنے سے بھی اکثر سکرپٹ رائٹرز کی سوچ اور مواد متاثر ہوتے ہیں۔