امتیاز برتنے کے الزام پر امیتابھ کی برہمی

،تصویر کا ذریعہGetty
بالی وڈ کے سپر سٹار امیتابھ بچن سوشل میڈیا پر بہت سرگرم ہیں اور وہ مختلف تقریبات، مواقع اور واقعات پر اپنے خیالات ظاہر کرتے ہیں جبکہ ان کے مداحوں کو ان کا انتظار بھی رہتا ہے۔
سنیچر کو ہندوؤں کے تہوار جنم اشٹمی کے روز جب امیتابھ کی جانب سے فیس بک پر کوئی پیغام پوسٹ نہ کیا گیا تو ان کے ایک پرستار نے ان پر ہندوؤں کے خلاف تعصب کا الزام لگایا۔
امیتابھ بچن نے اس پوسٹ پر ناراضی کا اظہار کیا اور اپنے پرستار کے لیے ’عقل سلیم‘ کی دعا کی۔
امیتابھ کے فین سریش مستری کو شاید یہ گمان بھی نہ ہو کہ ان کے پوسٹ کا جواب آئے گا اور وہ بھی اتنا تلخ۔
سریش مستری نے امیتابھ بچن کے فیس بک صفحے پر لکھا: ’آپ نے جنم اشٹمی (کے موقعے) پر مبارکباد نہیں دی، ہندو پرستاروں کی عزت بالکل نہیں ہے آپ کی نظروں میں۔ مسلمانوں کی عید پر آپ تو مکمل صفحہ بھر دیتے ہیں اپنی تصاویر سے، مبارک باد سے۔ ایسا امتیازی سلوک کیوں؟‘

،تصویر کا ذریعہ
امیتابھ بچن نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سریش مستری کو فیس بک پر ہی جواب دیا۔
امیتابھ نے لکھا: ’جب خاندان میں کسی کا انتقال ہو جائے تو کیا آپ تہوار مناتے ہیں؟ ہمارے گھر میں ہمارے چھوٹے بھائی کی طرح مسٹر آدیش شری واستو کا کل انتقال ہو گیا۔ اس لیے جنم اشٹمی کی مبارک باد نہیں دی فیس بک پر۔ آپ جیسے لوگوں کے منھ سے اس طرح کی باتیں زیب نہیں دیتیں۔‘
انھوں نے مزید لکھا: اگر آپ کے آبا نے آپ کو ہندوستانی تہذیب سے آزاد یا دور رکھا ہے تو یہ آپ کی بدقسمتی ہے۔ ہمیں کسی دوسرے کی اقدار کے معاملے میں آپ کے خیالات کی ضرورت نہیں۔ خدا آپ کو عقل سلیم عطا کرے، میری تو یہی دعا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ اس سے قبل امیتابھ بچن نے ایک جنازے میں شرکت کی تھی جس میں لوگ ان کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کر رہے تھے۔
امیتابھ بچن نے اس پر بھی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔







