سویڈن کے زیلمرلو یوروویژن مقابلے کے فاتح

اس سال کے مقابلے کے لیے زیلمرلو سٹے بازوں کے بھی پسندیدہ گلوکار تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس سال کے مقابلے کے لیے زیلمرلو سٹے بازوں کے بھی پسندیدہ گلوکار تھے

یورپ میں گائیکی کے مقابلے یورو ویژن میں سویڈن کے گلوکار مینز زیلمرلو فاتح قرار پائے ہیں، انھوں نے اس مقابلے میں روس کی پولینا گگارینا کو شکست دی ہے۔

60 واں یوروویژن مقابلہ آسٹریا کے شہر ویانا میں منعقد ہوا۔

مینز زیلمرلو نے اپنی تیز دھن والے پاپ نغمے ’ہیروز‘ کے لیے یہ اعزاز حاصل کیا جس میں انھوں نے اختراعی اینیمیٹڈ ویژوئلس کا بھی استعمال کیا تھا۔

اس مقابلے میں تیسرے نمبر پر اٹلی رہا جبکہ بلجیئم چوتھے اور پہلی بار مدعو کیے جانے والا ملک آسٹریلیا پانچویں نمبر پر رہا۔

اس میں مجموعی طور پر 27 ممالک نے حصہ لیا تھا جو کہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

آسٹریا اور جرمنی صفر پوائنٹس کے ساتھ آخری مقام پر رہے اور سنہ 2003 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی ملک کو صفر پوائنٹس ملے ہوں۔

برطانیہ کی الیکٹرو ویلویٹ نے صرف پانچ پوائنٹس حاصل کیے تاہم انھوں نے اس مخصوص شمارے میں شرکت کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔

جہاں سویڈن کے زیلمرلو خوشی سے جھوم اٹھے وہیں روس کی پولینا اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنجہاں سویڈن کے زیلمرلو خوشی سے جھوم اٹھے وہیں روس کی پولینا اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں

انھوں نے کہا: ’ہم نے اپنے ملک کی نمائندگی کرنے میں دل و جان لگا دیا اور ہم دنیا بھر میں اپنے تمام مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ اس سال کے مقابلے کے لیے زیلمرلو سٹے بازوں کے بھی پسندیدہ گلوکار تھے۔

زیلمرلو نے ناظرین سے کہا ’میں بہت زیادہ خوش ہوں اور آپ تمام کا ووٹ دینے کے لیے شکر گزار ہوں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سب ہیروز ہیں خواہ ہم کسی کو بھی چاہیں، خواہ ہم کوئی بھی ہوں اور ہم کسی میں بھی یقین رکھتے ہوں، ہم سب ہیروز ہیں۔‘

آسٹریلیا کے گلوکار گائے سیبیسٹیئن کےلیے یہ انوکھا موقع تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے گلوکار گائے سیبیسٹیئن کےلیے یہ انوکھا موقع تھا

یہ چھٹا موقع ہے جب سویڈن نے یوروویژن خطاب حاصل کیا ہے اور اب وہ آئر لینڈ سے صرف ایک نمبر پیچھے ہے جس نے یہ خطاب سات بار حاصل کر رکھا ہے۔

اس نتیجے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ سال کا یوروویژن اب سوئیڈن میں ہوگا۔

یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ تقریباً 20 کروڑ افراد نے اس مقابلے کو ٹی وی پر دیکھا اور پہلی بار چین میں اسے براہ راست نشر کیا گيا۔