ملکۂ غزل بیگم اختر کا صد سالہ جشن

رواں سال بیگم اختر کی صد سالہ تقریبات منائی جا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنرواں سال بیگم اختر کی صد سالہ تقریبات منائی جا رہی ہیں

ملکۂ غزل بیگم اختر کے صد سالہ جشن کی ایک تقریب میں بھارت کے معروف گلوکاروں نے ایک پلیٹ فارم پر آ کر انھیں یاد کیا۔

بی بی سی ہندی کے لیے چرنتا بھٹ اپنی رپورٹ میں بتاتی ہیں کہ اس موقعے پر شبھا مدگل، شانتی ہیرانند، ریتا گانگولی، پنڈت اروند پاریکھ، انیش پردھان اور بھوپندر سنگھ جیسے موسیقی کی دنیا کے بڑے نام موجود تھے۔

ان کے مطابق جب موسیقی کی دنیا کی معروف شخصیتیں اتنی بھاری تعداد میں ایک پلیٹ فارم پر آ کر بیگم اختر کو یاد کرتی ہیں تب یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملکۂ غزل بیگم اختر پھر سے جی اٹھی ہوں۔

خیال رہے کہ سنہ 2015 - 2014 کو بیگم اختر کی پیدائش کی صد سالہ تقاریب کے سال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ

اسی سلسلے میں ممبئی کے نیشنل سینٹر فار پرفارمنگ آرٹس (این سی پی اے) میں معروف فنكاروں اور بیگم اختر کے مداحوں نے ان سے منسلک یادیں تازہ کیں۔

پروگرام کی آرگنائزر اور این سی پی اے کی پروگرامنگ ہیڈ (بھارتی موسیقی) ڈاکٹر سورن لتا راؤ نے کہا: ’بیگم اختر کے بارے میں کوئی ایک شخص بات نہیں کر سکتا۔ اس لیے ایسے لوگوں کا پینل تیار کیا گیا جو ان کی زندگی، انداز، اور موسیقی کو جانتے ہوں۔‘

شبھا مدگل نے پروگرام کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا: ’کوئی بھی فنکار اپنے کام سے ہی جانا جاتا ہے، بیگم اختر ٹھمري، دادرا کے لیے تو معروف ہیں ہی لیکن ان کی غزل گائیکی کا بہت خاص مقام ہے۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی تعلیم کا ان غزل گائیکی پر اثر تھا۔‘

شوبھا مدگل نے کہا کہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی تعلیم کا بیگم اختر کی غزل گائیکی پر خاص اثر تھا

،تصویر کا ذریعہCHIRANTANA BHATT

،تصویر کا کیپشنشوبھا مدگل نے کہا کہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی تعلیم کا بیگم اختر کی غزل گائیکی پر خاص اثر تھا

انھوں نے کہا: ’اس قسم کے پروگرام کے ذریعے ہم بیگم اختر کی زندگی کے ہر پہلو کو لوگوں تک پہنچا سکیں گے۔ انٹرنیٹ کے زمانے میں ان کی موسیقی کا جتنا پھیلاؤ ہو سکے، اتنا اچھا ہے۔‘

طویل عرصے تک بیگم اختر سے تعلیم لینے والی شانتی ہیرانند نے کہا: ’تقسیم ہند کے بعد لکھنؤ آنا ہوا تو میں آكاش وانی میں گانا گانے لگی۔ مجھے کسی نے کہا مجھے بیگم اختر سے گانا سیکھنا چاہیے۔ وہ سٹوڈیو میں اکثر آتی تھیں لیکن میں انھیں جانتی نہیں تھی۔ جب پہلی بار ان کے گھر گئی تو انھوں نے پلنگ کے نیچے سے ہارمونيم نکال کر مجھے کچھ گا کر سنانے کو کہا۔

’میرا بھجن سننے کے بعد انھوں نے کہا اچھا تو گاتی ہو، لیکن سیکھنا ہے تو کل آ جانا۔ وہ اپنی مرضی کی مالک تھیں۔ جب گانا ہوتا تھا گاتی رہتی تھیں اور وہی مشق کرنے کے لیے دھن دیتی تھیں۔‘

شانتی ہیرانند نے بیگم اختر سے گائیکی سیکھی تھی

،تصویر کا ذریعہCHIRANTANA BHATT

،تصویر کا کیپشنشانتی ہیرانند نے بیگم اختر سے گائیکی سیکھی تھی

ریتا گنگولی نے بتایا کہ وہ سدھیشوري دیوی کے ساتھ سنگت کے لیے جایا کرتی تھیں۔ حالانکہ بیگم اختر اور سدھیشوري دیوی کے درمیان دوستانہ مراسم نہیں تھے لیکن بیگم اختر نے انھیں اپنے ساتھ غزل گانے کے لیے راضی کر لیا۔

ریتا نے ایسے کئی قصے سنائے جہاں ان کی اچانک پروگرام سے اٹھ جانے والی باتیں تھیں تو اچانک گائیکی کی رینج تبدیل کرنے کی یادیں بھی شامل تھیں۔

پنڈت اروند پاریکھ نے وہ دن یاد کیے جب بیگم اختر ان کے پاس ستار سیکھنے آتی تھیں۔

ریتا گنگولی نے بیگم اختر کے کئی واقعات بیان کیے

،تصویر کا ذریعہCHIRANTANA BHATT

،تصویر کا کیپشنریتا گنگولی نے بیگم اختر کے کئی واقعات بیان کیے

غزل سنگر بھوپندر سنگھ اور گھنشیام واسواني نے کہا کہ بیگم اختر نے غزل گائیکی کو آسان رکھا اور ان کی ادائیگی کی خصوصیات بتائيں۔

پروگرام کے دوسرے دور میں جاوید اختر نے غزل کے اجزائے ترکیبی، مطلع، رديف اور قافیہ کے بارے میں بات کی۔

اپنے والد جاں نثار اختر اور شاعر کیفی اعظمی سے وابستہ بیگم اختر کی باتوں سے سامعین کی معلومات میں اضافہ کیا۔

یہیں پتہ چلا کہ بیگم اختر کی موسیقی کے کچھ صفحات ایودھیا راج دربار کی محفلوں سے وابستہ ہیں۔ ان پر روشنی ڈالنے کے لیے ایودھیا کے شاہی گھرانے کے يتيندر مشرا وہاں موجود تھے۔

ایک بار بیگم اختر پروگرام کے لیے ممبئی گئی اور وہیں سے حج کے لیے روانہ ہو گئي

،تصویر کا ذریعہSALEEM KIDWAI

،تصویر کا کیپشنایک بار بیگم اختر پروگرام کے لیے ممبئی گئی اور وہیں سے حج کے لیے روانہ ہو گئي

پروگرام کے آخر میں بیگم اختر پر دستاویزی فلم اور ان کی پرانی ریکارڈنگز دکھائی گئیں۔

ممبئی کے كھٹاؤ وللبھ داس خاندان نے سنہ 1942 میں بیگم اختر کے ایک پروگرام منعقد کیا تھا جن میں گائے جانے والے 18 ریكارڈز این سی پی اے پیش کیے جانے کا اعلان بھی کیا گیا۔