فیض تقریبات میں بھارتی اداکاروں کی شرکت

شبانہ اعظمی لاہور میں فیض میلے میں
،تصویر کا کیپشنلاہور میں والی تقریبات کے دوران فیض احمد فیض کے بارے میں لکھی گئی چھ کتابوں کو بھی میلے میں رکھا گیا

فیض امن میلے میں شرکت کرنے والے بھارتی فنکاروں کا کہنا ہے کہ عوام اور انقلاب کی بات کرنے والے شاعر فیض احمد فیض کی صد سالہ سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کرنا ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔

پاکستان میں فیض احمد فیض کی صد سالہ سالگرہ تقریبات اہتمام کیا گیا ہے جس کے لیے بھارت سے بھی اداکار اور دانشور ان تقریبات میں شرکت لیے یہاں پہنچے ہیں۔بھارت سے آنے والے فنکاروں میں شبانہ اعظمی اور ان کے شوہر جاوید اختر ان تقریبات میں توجہ کا مرکز رہے۔ شبانہ اعظمیْ نے لاہور کے الحمرا ہال میں فیض کا کلام پڑھا اور ان کی شخصیت کے بارے میں بات کی۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق فیض امن میلے میں شرکت کرنے والے بھارتی اداکارہ راجندگپتا کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں پڑھنے لکھنے کا رواج کم ہوگیا ہے اور ان تقریبات کے ذریعے فیض احمد فیض کے پیغام کو عام لوگوں تک پہنچانے میں مدد ملی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیض احمد فیض نے عام آدمی اور انقلاب کی بات کی ہے جو لوگوں تک پہنچنا ضروری ہے۔ان کے بقول بھارت میں فیض احمد فیض کو اردو سے زیادہ ہندی میں پڑھا جاتا ہے۔

فلمی صنعت سے وابستہ سریش چھاپڑیا کا کہنا تھا کہ فیض احمد فیض کی صد سالہ سالگرہ کی تقریبات نے دو ملکوں کے لوگوں کو اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کیا ہے اور انہیں ان تقریبات میں شرکت کرنے کی بہت خوشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیض ایک ایسے شاعر تھے جنھوں نے ہر طر ح کے لیے لوگوں کے لیے شعر کہے اس لیے انہیں بھارت میں اقبال اور دیگر شاعروں کی طرح پڑھا جاتا ہے۔

بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمیْ اور ایلا ارون نے فیض امن میلے میں پاکستانی فنکاروں کے ساتھ ملکر لوگ گیتوں پر رقص کیا اور فیض احمد فیض کو خراج عقیدت پیش کیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

لاہور میں ہونے والی ان تقریبات کے دوران فیض احمد فیض کے بارے میں لکھی گئی چھ کتابوں کا افتتاح بھی کیا گیا جبکہ گلوکار ٹینا ثانی کی آواز میں فیض احمد فیض کے کلام کی سی ڈی بھی جاری کی گئی۔

فیض احمد فیض کی تصاویر کی نمائش کے علاوہ ایک مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا جبکہ ایک الگ تقریب میں ٹینا ثانی نے فیض احمد فیض کا کلام بھی سنایا۔

ان تقریبات کی کوریج کے حقوق پاکستان کے سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن کے پاس تھے جس کی وجہ سے مقامی ٹی وی چینلز ان تقریبات کی کوریج نہ کرسکے۔