غنی خان کے صد سالہ جشنِ ولات کی تقریبات

اس نمائش میں پانچ مقامی اورافغانستان کے ایک آرٹسٹ کے فن پارے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں
،تصویر کا کیپشناس نمائش میں پانچ مقامی اورافغانستان کے ایک آرٹسٹ کے فن پارے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں
    • مصنف, سید انور شاہ
    • عہدہ, صحافی، سوات

پاکستان کے صوبہ خیبر پختو نخواہ کے ضلع سوات میں پشتو زبان کے معروف شاعرغنی خان کے صد سالا جشنِ ولادت کے حوالے سےایک بڑی نمائش کا انعقاد کیاگیا ہے۔ سواستو ارٹ اینڈ کلچر ایسوسی ایشن اور ہنر کدہ کے زیر اہتمام یہ نمائش سیدو شریف کے سرینا ہوٹل میں ہو رہی ہے۔

ایک ماہ تک جاری رہنے والی’ غنی خان د فکر رنگونہ‘ ( غنی خان کے سوچ کے رنگ) نامی اس نمائش میں امن اور محبت کے پیغام کو مختلف فن پاروں کے ذریعے اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وادی سوات فن اور ثقافت کے حوالے سے کافی شہرت رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ سیدو شریف میں ہونے والی یہ نمائش لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

اس نمائش میں پانچ مقامی اورافغانستان کے ایک ارٹسٹ کے فن پارے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔

سوات کے معروف مقامی فنکار ناصر شین نے اس نمائش میں لکڑی کے فن پاروں کے ذریعے دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ پشتون قوم امن سے محبت کرنی والی قوم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فن پارے کی تخلیق کے بعد وہ راحت محسوس کرتے ہے۔

امن کے پیغام کو اجاگر کرنے والے ایک دوسرے آرٹسٹ مراد نے بتایا کہ ان کا مقصد لوگوں کے ذہنوں سے اس غلط فہمی کو ختم کرنا ہے کہ پختون بندوق سے محبت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایک غلط پیغام لوگوں کو دیا گیا کہ پختون دہشت گرد ہیں حالانکہ پختون محبت کرنے والی قوم ہے۔

نمائش میں رکھے گئے فن پاروں کو دیکھنے کے لیے مردان سے آئے ہوئے عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ آرٹ ایک سلجھے ہوئے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اور شورش سے متاثرہ اس وادی میں اس قسم کی نمائش سے دنیا کو ایک مثبت پیغام جائے گا۔

بلوچستان سے آئے ہوئے بلوچستان کے صوبائی اسمبلی کے رکن نصیراللہ خان زیرے نے بی بی سی کو بتایا کہ پشتون عوام کا کلچر انتہائی اچھا ہے، کبھی بھی پختون دہشت گرد نہیں رہا اور نہ ہی پختون قوم کبھی فرقہ واریت میں ملوث رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بیرونی عناصر کا کارنامہ ہے کہ آج ہمارا وطن آگ اور شعلوں میں جل رہا ہے۔ان کے مطابق ایسی صورتحال میں اس قسم کی کاوشیں یقیناً بہت بڑا کام کریں گی اور یہ امن کی راہ میں بنیادی کردار ادا کریں گی۔

غنی خان کو پشتو کا بڑا رومانوی شاعر سمجھا جاتا ہے
،تصویر کا کیپشنغنی خان کو پشتو کا بڑا رومانوی شاعر سمجھا جاتا ہے

اس نمائش کو خصوصی اہمیت اس وجہ سے بھی حاصل ہے کہ مقامی اور غیر مقامی لوگوں کی کثیر تعداد آرٹ کے ان نمونوں کو دیکھنے کے لیے سوات کا رخ کر رہی ہے۔ منتظمین کو امید ہے کہ نمائش کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ آئیں گےاور اچھی خاصی تعداد میں فن پارے خریدے جائیں گے۔

سنہ 2007 سے 2009 تک سوات میں امن وامان کی صورتحال بہتر نہ تھی، تاہم منتظمین کو یقین ہے کہ لوگ اس وقت کو فراموش کرچکے ہیں۔

غنی خان بیسویں صدی میں پشتو زبان کے انتہائی معروف شاعر تھے۔ وہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مصنف اور مصور بھی تھے۔ ان کے شعری مجموعات میں فانوس ، پلوشے اور لٹون قابل ذکر ہیں۔

ان کی انگریزی کتاب ’دی پٹھان‘جو کہ انیس سو سینتالیس میں شائع ہوئی تھی پشتون قبائل اور تاریخ پر انتہائی مستند سمجھی جاتی ہے۔