دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے۔۔۔

،تصویر کا ذریعہSHANTI HEERANAND
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
بیگم اختر کو ملکۂ غزل کہا جاتا ہے۔ آج اگر وہ زندہ ہوتیں تو پورے سو سال کی ہوتیں۔
’اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا۔۔۔‘ جیسی مشہور غزلوں کے علاوہ بیگم اختر کی گائکی کی وارثت کے مختلف پہلو ہیں۔
اس وراثت کی کہانی کی شروعات گذشتہ صدی کی تیسری دہائی میں اس وقت ہوئی جب بیگم اختر نے کولکتہ میں سٹیج پر پہلی بار اپنا گانا پیش کیا تھا۔
یہ پروگرام صوبہ بہار میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اس دن انھیں سننے والوں میں بلبل ہند کے لقب سے معروف سروجنی نائیڈو بھی تھیں۔
وہ ان سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ انھوں نے سٹیج کے پیچھے آ کر انھیں نہ صرف مبارکباد دی بلکہ بعد میں ایک کھادی کی ساڑھی بھی انھیں بھجوائي۔
پانچ فٹ تین انچ لمبی بیگم اختر ہائی ہیل کی چپلیں پہننے کی بہت شوقین تھیں۔ یہاں تک کہ وہ گھر میں بھی اونچی ایڑی کی چپلیں پہنا کرتی تھیں۔
گھر پر ان کا لباس مردوں کا کرتہ، لنگی اور اس سے میچ کرتا ہوا سکارف ہوتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہSALEEM KIDWAI
بیگم اختر کی شاگردہ شانتی ہیرانند کہتی ہیں کہ رمضان میں بیگم اختر صرف آٹھ یا نو روزے ہی رکھ پاتی تھیں کیونکہ وہ سگریٹ کے بغیر نہیں رہ سکتی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افطار کا وقت ہوتے ہی وہ کھڑے کھڑے ہی نماز پڑھتيں، ایک پیالی چائے پيتيں اور فوری طور سگریٹ سلگا لیتیں۔ دو سگریٹ پینے کے بعد وہ دوبارہ آرام سے بیٹھ کر نماز پڑھتيں۔
ان کو قریب سے جاننے والے پروفیسر سلیم قدوئی بتاتے ہیں کہ ایک بار انھوں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا تم سگریٹ پیتے ہو۔ میں نے جواب دیا تھا ’جی ہاں، لیکن آپ کے سامنے نہیں پيؤں گا۔‘
ایک بار وہ میرے والد کو ہسپتال میں دیکھنے آئیں۔ وہ ان کے لیے پھلوں کا بہت بڑا باسکٹ بھی لائیں۔ پھلوں کے درمیان سگریٹ کے چار پیکٹ بھی رکھے ہوئے تھے۔
انھوں نے دھیرے سے مجھ سے کہا: ’پھل تمہارے والد کے لیے ہیں اور سگریٹ تمہارے لیے۔ہسپتال میں تمہیں کہاں پینے کے لیے مل رہی ہوگی!‘
ان کو کھانا بنانے کا بھی بہت شوق تھا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کو لحاف میں گانٹھیں لگانے کا ہنر بھی آتا تھا اور تمام لکھنؤ سے لوگ گانٹھے لگوانے کے لیے اپنے لحاف ان کے پاس بھیجا کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہSHANTI HEERANAND
وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ خدا سے ان کا ذاتی رابطہ ہے۔ جب انھیں سنک سوار ہوتی تھی تو وہ کئی دنوں تک عقیدت کے ساتھ قرآن پڑھتي رہتیں لیکن کئی بار ایسا بھی ہوتا تھا کہ وہ قرآن شریف کو ایک طرف رکھ دیتیں۔
جب ان کی شاگردہ ان سے پوچھتيں: ’امی کیا ہوا؟‘ تو ان کا جواب ہوتا، ’جنگ ہے اللہ میاں سے!‘
ایک بار وہ ایک موسیقی کی تقریب میں شرکت کے لیے ممبئی گئیں۔ وہیں اچانک انھوں نے طے کیا کہ وہ حج کرنے مکہ جائیں گی۔
انھوں نے صرف اپنی فیس لی، ٹکٹ خریدا اور وہیں سے مکہ کے لیے روانہ ہو گئیں۔ جب تک وہ مدینہ پہنچیں ان کے سارے پیسے ختم ہو چکے تھے۔
انھوں نے زمین پر بیٹھ کر نعت شریف پڑھنا شروع کر دیا۔ لوگوں کی بھیڑ لگ گئی اور لوگوں کو پتہ چل گیا کہ وہ کون ہیں۔
فوری طور مقامی ریڈیو سٹیشن نے انھیں مدعو کیا اور ریڈیو کے لیے ان کی نعت کو ریکارڈ کیا۔
کہا جاتا ہے کہ شاعر جگر مرادآبادی بیگم اختر کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔

،تصویر کا ذریعہSALEEM KIDWAI
بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ انھوں نے فلم ساز ستیہ جیت رائے کی فلم ’جلسہ گھر‘ میں کلاسیکی گلوکارہ کا کردار ادا کیا تھا۔
اردو کے مشہور شاعر جگر مرادآبادی سے بیگم اختر کی گہری دوستی تھی۔ جگر اور ان کی بیوی اکثر بیگم کے لکھنؤ میں ہیولک روڈ پر واقع مکان میں ٹھہرا کرتے تھے۔
شانتی بتاتی ہیں کہ بیگم اختر جگر سے کھلے عام فلرٹ کیا کرتی تھیں۔
ایک بار مذاق میں انھوں نے جگر سے کہا: ’کیا ہی اچھا ہو کہ ہماری آپ سے شادی ہو جائے۔ تصور کیجیے کہ ہمارے بچے کیسے ہوں گے۔ میری آواز اور آپ کی شاعری کا زبردست امتزاج!‘
اس پر جگر نے زور کا قہقہ لگایا اور یوں جواب دیا: ’لیکن اگر ان کی شکل میری طرح نکلی تو کیا ہو گا!‘
بیگم کے دوستوں میں جانے مانے کلاسیکی گلوکار کمار گندھرو بھی تھے۔ جب بھی وہ لکھنؤ میں ہوتے تھے وہ اکثر اپنا جھولا کندھے پر ڈالے ان سے ملنے آیا کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہSALEEM KIDWAI
بیگم اختر نہا کر اپنے ہاتھوں سے ان کے لیے کھانا بنایا کرتی تھیں۔ ایک بار وہ ان سے ملنے ان کے شہر دیواس بھی گئی تھیں۔ تب کمار نے ان کے لیے کھانا بنایا تھا اور دونوں نے مل کر گایا بھی تھا۔
معرف شاعر فراق گورکھپوری بھی ان کے معترف تھے۔ اپنی موت سے کچھ دن پہلے وہ دہلی میں پہاڑ گنج کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ بیگم ان سے ملنے گئیں۔ فراق گہری گہری سانس لے رہے تھے لیکن ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
انھوں نے اپنی ایک غزل بیگم اختر کو دی اور اصرار کیا کہ وہ اسی وقت اسے ان کے لیے گائیں۔
غزل تھی، ’شام غم کچھ اس نگاہیں ناز کی باتیں کرو، بےخدي بڑھتی چلی ہے، راز کی باتیں کرو‘، جب بیگم نے وہ غزل گائی تو 'فراق' کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔
بیگم کی مشہور غزل ’اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا۔۔۔‘ کی بھی دلچسپ کہانی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSALEEM KIDWAI
شانتی بتاتی ہیں کہ ایک بار جب وہ ممبئی سینٹرل سٹیشن سے لکھنؤ کے لیے روانہ ہو رہی تھیں تو ان کو سٹیشن چھوڑنے شکیل بدايوني آئے اور انھوں نے ان کے ہاتھ میں ایک رقعہ تھما دیا۔
رات کو پرانے زمانے کے فرسٹ کلاس میں بیگم نے اپنا ہارمونیم نکالا اور رقعے میں لکھی اس غزل پر کام کرنا شروع کیا۔
بھوپال پہنچتے پہنچتے غزل کو موسیقی اور طرز دیا جا چکا تھا۔ ایک ہفتے کے اندر بیگم اختر نے وہ غزل لکھنؤ ریڈیو سٹیشن سے پیش کی اور پورے بھارت نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

،تصویر کا ذریعہATUL CHANDRA
ایک بار بیگم اختر فوجیوں کے لیے پروگرام کرنے کشمیر گئیں۔ جب وہ واپس لوٹنے لگیں تو فوج کے افسروں نے انہیں وسکی کی کچھ بوتلیں دیں۔
کشمیر کے اس وقت کے وزیر اعلی شیخ عبداللہ نے سرینگر میں ایک ہاؤس بوٹ پر ان رکنے کا انتظام کروایا تھا۔
جب رات ہوئی تو بیگم نے ویٹر سے کہا کہ وہ ان کا ہارمونیم ہاؤس بوٹ کی چھت پر لے آئیں۔
انھوں نے اپنی ہم سفر ریتا گنگولی سے پوچھا: ’تمہیں برا تو نہیں لگے گا اگر میں تھوڑی سی شراب پی لوں؟‘ ریتا نے حامی بھر دی۔ ویٹر گلاس اور سوڈا لے آیا۔
ریتا یاد کرتی ہیں اس رات بیگم اختر نے دو گھنٹے تک گایا۔ خاص کر ابن انشا کی وہ غزل گا کر تو انھوں نے ان کو حیران کر دیا۔
’کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا ترا۔۔۔‘

جب اختري 11 سال کی تھیں تو ان کی ماں مشتري انھیں اپنے ساتھ بریلی کے پیر عزیز میاں کے پاس لے کر گئیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک کاپی تھی جس میں بہت سی غزلیں لکھی ہوئی تھیں۔
پیر نے ایک صفحے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ اسے پڑھو۔ اختري نے بہزاد لکھنوی کی اس غزل کو اونچی آواز میں پڑھا:
’دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے۔۔۔ ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنا دے‘
پیر صاحب نے کہا، اگلی ریکارڈنگ میں اس غزل کو سب سے پہلے گانا۔ اختري کلکتہ پہنچتے ہی اپنی ریکارڈنگ کمپنی کے پاس گئیں اور دیوانہ بنانا ہے۔۔۔گایا۔
سارنگی پر ان کے ساتھ استاد بڑے غلام علی خاں (دونوں پٹیالہ گھرانے سے تھے) تھے۔ سنہ 1925 میں ہندوؤں کے اہم تہوار درگا پوجا کے دوران وہ ریکارڈ ریلیز کیا گیا اور اس نے پورے بنگال میں تہلکہ مچا دیا۔ اس کے بعد سے اختري فیض آبادی عرف بیگم اختر نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔







