فیض کی سوویں سالگرہ کی تقریبات

پاکستان اور بھارت میں سن دو ہزار گیارہ کا تمام سال تقریباتِ فیض کے لیے وقف ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور بھارت میں سن دو ہزار گیارہ کا تمام سال تقریباتِ فیض کے لیے وقف ہے۔
    • مصنف, عارف وقار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

بیسویں صدی کی اُردو شاعری میں اقبال کے بعد جو نام اُبھر کر سامنے آئے اُن میں نمایاں ترین نام فیض احمد فیض کا ہے۔

سن تیس کے عشرے میں شروع ہونے والی اُن کی شاعری سن اسّی کی دہائی تک جاری رہی اور یوں اُن کے کلام نے نصف صدی کا عرصہ اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔۔۔ اور یہ کوئی معمولی عرصہ نہ تھا بلکہ حادثات، سانحات اور انقلابات کا ایک ایسا سلسلہ تھا جس کی مثال تاریخِ عالم میں دکھائی نہیں دیتی۔

ایک حساس انسان کے طور پر فیض نے گردو پیش کی صورتِ حال کو اس کی پوری گہرائی اور سنگینی کے ساتھ محسوس کیا اور پھر شاعر کے احساسات و جذبات نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ، دستِ تہِ سنگ، سرِ وادیِ سینا، شامِ شہرِ یاراں، مرے دل مرے مسافر اور غبار ایام کی شکل میں زینتِ قرطاس بنے اور عوام تک پہنچے۔

13 فروری 1911 کو پیدا ہونے والے فیض کی صد سالہ سالگرہ دنیا بھر میں ہر اس مقام پر منائی جا رہی ہے جہاں فیض کے چاہنے والے، یا اردو زبان و ادب سے محبت کرنے والے لوگ آباد ہیں۔

پاکستان اور بھارت میں سن دو ہزار گیارہ کا تمام سال تقریباتِ فیض کے لیے وقف ہے۔ دہلی میں ان تقریبات کا آغاز یکم جنوری ہی سے ہو گیا تھا۔ 25 فروری کو خود صدرِ ہند دہلی کی ایک تقریب میں ٹینا ثانی اور شبانہ اعظمی کی تیار کردہ کلامِ فیض پر مبنی ایک سی ڈی کا افتتاح کریں گی۔ اس کے بعد دہلی، لکھنؤ، حیدر آباد، امرتسر اور چندی گڑھ میں سال بھر فیض کے صد سالہ جنم دِن کی تقریبات جاری رہیں گی۔

روس میں ان تقریبات کا سلسلہ ماہِ اپریل میں شروع ہوگا۔ ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ میں کئی پُر شکوہ جلسوں کے انتظامات کیے جا رہے ہیں جہاں فیض احمد فیض کے روسی مترجمین کے علاوہ پاک و ہند سے بھی مندو بین کو مدعو کیا گیا ہے۔

مغربی دنیا میں اس سلسلے کا سب سے بڑا اجتماع سترہ جون کو لندن میں ہوگا جہاں مشرق و مغرب سے فیض کے چاہنے والوں کے قافلے کشاں کشاں چلے آئیں گے اور یہ تقریبات کئی روز تک جاری رہیں گی۔

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں سارا سال چھوٹے بڑے اجتماعات ہوتے رہیں گے لیکن جن امریکی یونیورسٹیوں میں اُردو، ہندی یا ساؤتھ ایشین کلچر کے مضامین کی تدریس ہوتی ہے وہاں جشنِ فیض منانے کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔

فیض احمد فیض کے اہلِ خانہ اور قریبی دوستوں کو اب تک واشنگٹن، نیو یارک، بوسٹن اور سان فرانسسکو کے ثقافتی اور تدریسی مراکز سے کئی دعوت نامے موصول ہو چکے ہیں۔

سلیمہ ہاشمی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنروس کے لوگ ابّا سے بہت پیار کرتے ہیں اور صد سالہ تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لے رہے ہیں:سلیمہ ہاشمی

خود فیض کے دیس پاکستان میں یہ تقریبات سن دو ہزار دس ہی میں شروع ہو گئی تھیں اور ان کا نقطہء عروج عین سالگرہ کے دن یعنی تیرہ فروری کو لاہور میں ظاہر ہوگا جب شہر میں تین تقریبات منعقد ہونگی۔

معروف تدریسی ادارے لمز میں فیض کی شخصیت اور شاعری ہر ایک بین الاقوامی سیمینار ہوگا جس میں دنیا بھر سے مندوبین شریک ہوں گے۔

لاہور کے اوپن ائر تھیٹر میں فیض میلہ منعقد ہوگا اور منتظمین کو توقع ہے کہ اس بار سنہ 1985 کے اس تاریخی فیض میلے کی یاد تازہ ہو جائے گی جس میں اقبال بانو نے فیض کی معروف نظم ’ہم دیکھیں گے‘ گائی تھی اور حاضرین اس جوش و خروش سے اس گانے میں شامل ہوئے تھے کہ یہ ثقافتی اجتماع ایک قافلہ انقلاب کی شکل اختیار کر گیا تھا۔

تیرہ فروری کو لاہور میں جاری ہونے والی سی ڈی بھی فیض کا انقلابی پیغام لے کر آرہی ہے اور صد سالہ تقریبات کے منتظمین دم سادھے اس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں جب لاہور کی فضاؤں میں کلامِ فیض ایک نئی آن بان سے گونجے گا۔