بھارتی ناظرین کے لیے پاکستانی ڈراموں میں تبدیلیاں

،تصویر کا ذریعہDASTAAN
بھارت میں پاکستانی ڈرامے مقبولیت تو حاصل کر رہے ہیں لیکن بعض کہانیوں میں مکالموں اور واقعات کو موضوعات کی حساسیت کے باعث بھارت کے ناظرین کے لیے تبدیل بھی کیا جا رہا ہے۔
بھارت اور پاکستان کی تقسیم کے موضوع پر مبنی ایک پاکستانی ٹی وی سیریل ’داستان‘ آج کل بھارت میں پیش کی جا رہی ہے جسے ناظرین کے احساسات کو مدنظر رکھتے ہوئے تبدیل کر دیا گیا ہے۔
بھارت میں زندگی ٹی وی چینل پر یہ ڈراما نئے نام ’وقت نے کِیا، کیا حسیں ستم‘ کے نام سے دکھایا جا رہا ہے۔
یہ سیریل پاکستان کی معروف مصنفہ رضیہ بٹ کے ایک ناول پر مبنی ہے اور تقسیم ہند سے پہلے لدھیانہ میں رہنے والے ایک خاندان کے لوگوں کی کہانی پر مبنی ہے۔
اس ڈرامے میں بانو اور حسن کی محبت کی کہانی بیان کی گئی ہے جن کی زندگی تقسیم ہند کی سرگرمیوں کے سبب متاثر ہو رہی ہے۔
کہانی میں ایک طرف جہاں مرکزی کردار حسن محمد علی جناح کا اور پاکستان کے مطالبے کا حامی ہے وہیں دوسری جانب اس کی محبوبہ بانو کا بھائی کانگریس کے نظریات سے متاثر ہے۔
اس ٹی وی سیریل میں پاکستان کے مقبول فنکار فواد خان اور صنم بلوچ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
سیریل میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح آپ کی سیاسی وابستگی روز مرہ کی زندگی پر اثر ڈالتی ہے اور دوستوں اورخاندانوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بن جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’زندگی‘ چینل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس شو کے مواد کو بھارتی ناظرین کے مزاج کی مناسبت سے ’غیر جانب دارانہ‘ بنایا گیا ہے۔
’زندگی‘ چینل کی بزنس ہیڈ پرینکا دتّہ کا کہنا ہے ’پوری کہانی بانو کی نظر سے بیان کی گئی ہے۔ وہ مسلمان ہیں۔ کہانی تقسیم ہند کے واقعات پر مبنی ہے اس لیے ہمیں اس کو بھارت کے ناظرین کے حساب سے بنانا پڑا۔‘

،تصویر کا ذریعہDASTAAN
سیریل کو دیکھنے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں نشر کرنے سے قبل اس میں ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں کہ اس سے بھارتی شائقین کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔
ہر قسط کو نشر کرنے سے پہلے ہی ٹی وی پر ایسے بیانات (ڈس کلیمرز) بھی نشر کیے جاتے ہیں کہ یہ ایک افسانوی کہانی ہے اور اس کا مقصد کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں ہے۔
ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کے آغاز والے مناظر دکھانے کے لیے ڈرامے کے اصل ڈائیلاگ حذف کر دیے گئے ہیں اور اس کی جگہ وائس اوور کا سہارا لیا گیا ہے۔
احتیاط
لیکن سیریل کے ہدایت کار ہشام حسین زندگی چینل کی اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے سیریل میں بھارتی احساسات کا پہلے ہی سے پورا خیال رکھا تھا اور احتیاط سے کام لیا تھا۔
ان کا کہنا ہے: ’یہ بانو کی محبت کی کہانی ہے۔ تقسیم کے دنوں میں جو ہوا وہ واقعی ایک بڑا المیہ ہے۔ سیریل بنانے کے سلسلےمیں میں نے ان لوگوں سے ملاقاتیں کیں جو تقسیم کے وقت پاکستان آ گئے تھے اور جنہیں ان دنوں کا تلخ تجربہ تھا۔ میں نے اسے بڑی احتیاط سے بنایا ہے اور میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس سے بھارتی ناظرین کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔‘
پاکستان میں یہ سیریل ’داستان‘ کے نام سے دکھائی گئی تھی۔ بھارت میں پہلے اسے’لکیریں‘ کے نام سے دکھانے کا منصوبہ تھا لیکن بعد میں یہ فیصلہ تبدیل کر دیا گیا اور اس کا نام ماضی کے ایک مشہور ہندی فلم کے نغمے پر کر دیا گیا۔
ان تمام وجوہات کے باوجود یہ ٹی وی سیریل بھارتی ناظرین میں کافی مقبول ہے۔







