پاکستانی ٹی وی سیریلز کی بھارت میں دھوم

،تصویر کا ذریعہpakistanidrama.com
- مصنف, وویت مہرا
- عہدہ, بی بی سی ہندی
’بھارت کے ٹی وی سیریلز گذشتہ دس برسوں سے ایک جیسے ہی ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘
یہ ’شپ آف تھيسيس‘ نامی ڈرامے کے ہدایت کار آنند گاندھی کا کہنا ہے جو ایک زمانے میں بھارت کے مشہورِ زمانہ ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ جیسے ٹی وی سیریل کا سکرپٹ لکھا کرتے تھے۔
بھارت کے ایک نئے ٹی وی چینل ’زندگی‘ پر آج کل بعض پاکستانی سیریل نشر ہو ر ہے ہیں۔ ان ٹی ڈراموں کو صرف پسند ہی نہیں کیا جارہا بلکہ محفلوں میں بھی ان کے تذکرے ہوتے رہتے ہیں۔
ناظرین اور ٹی وی پر نشر ہونے والے ایسے پروگراموں پر نظر رکھنے والے ماہرین کے درمیان انھیں سیریلز کے بارے میں کافی بحث ہو رہی ہے۔ آنند گاندھی کا بھی بھارتی ٹی وی سیریل کے متعلق یہ بیان اسی پس منظر سے تعلق رکھتا ہے۔
زندگی چینل پر نشر کیے جانے والے ٹی وی سیریلز، جیسے ’نور پور کی رانی،‘ ’کاش میں تیری بیٹی نہ ہوتی‘ اور ’زندگی گلزار ہے‘ کو لوگ بہت پسند کر رہے ہیں۔
آخر ان پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں ایسی کیا خاص بات ہے جو انھیں بھارتی ٹی وی سیریلز سے ممتاز بناتی ہے؟
ٹیلی ویژن پروگراموں کی مبصر پونم سکسینا کہتی ہیں: ’دیکھیے، بھارتی سیریل کافی میلوڈرامیٹك (جذباتی) ہوتے ہیں اور چھوٹی سی چھوٹی بات کو بہت بڑھا چڑھا کے دکھایا جاتا ہے۔ ایسے پروگراموں میں کردار نقلی اور منفی لگتے ہیں۔‘
پونم کہتی ہیں: ’ایسے سیریلز میں کوئی نہ کوئی کردار ایسا ہوتا ہی ہے جو خاندان کا امن و سکون خراب کرنے پر تلا رہتا ہے۔ جو کہانی سنانے کا انداز ہے اس کا بھی ایک طرح کا ٹیمپلیٹ بن گیا ہے جو برسوں سے یوں ہی چلا آ رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب پاکستانی پروگراموں کی تعریف کرتے ہوئے پونم کہتی ہیں: ’ان میں کہانی بیان کرنے کا انداز بالکل مختلف ہے۔ ان کی زبان بڑی شائستہ اور اصلی ہے۔ ان میں کوئی میلوڈراما نہیں ہے اور وہ کافی قابلِ اعتماد لگتے ہیں۔‘
تحریر کا کمال
آنند گاندھی کہتے ہیں: ’ہم اپنے ناظرین کے ساتھ وابستہ ہونے کے لیے بس ان کے جذبات کا سہارا لیتے ہیں۔‘
بھارت میں دکھائے جانے والے پاکستانی سیریل ’زندگی گلزار ہے‘ کی مصنفہ عمیرہ احمد کہتی ہیں: ’ہم جان بوجھ کر جذبات کو پکڑنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم کہانی پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور کیا بات کہی جا رہی ہے اس پر ہماری خاص نظر ہوتی ہے۔‘
پاکستان کے سیریل چھوٹے بھی ہیں۔ ’آن زارا‘ صرف 19 قسطوں میں ختم ہو گیا جب کہ بھارتی ٹی وی سیریل برسوں برس سے کھنچتے چلے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایک ہی طرز کے سالہا سال سے چلنے والے سیریل دلچسپی کے بجائے بوریت کا سبب بنتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی سیریل ان برائیوں سے جہاں پاک ہیں وہیں اس کا مواد بڑا تازہ لگتا ہے اس لیے وہ بہت مقبول ہو رہے ہیں۔







