بھارتی ٹی وی پر پاکستانی ڈرامہ سیریل

دوسرے مرحلے میں بھارت اور پاکستان مل کر ڈرامہ سیریل تیار کریں گے: زی ٹی وی نیٹ ورک
،تصویر کا کیپشندوسرے مرحلے میں بھارت اور پاکستان مل کر ڈرامہ سیریل تیار کریں گے: زی ٹی وی نیٹ ورک

پاکستانی فنکاروں کا بھارت میں مقبول ہونا اب عام بات ہے لیکن سیاست اور کشیدگی کی وجہ سے فنکاروں کے لیے یہ دوریاں کم کرنا ہمیشہ آسان نہیں رہا۔

اب بھارتی ٹی وی نیٹ ورک ’زی‘ نے ایک نئی کوشش کی ہے، جس میں نیٹ ورک کے تفریحی چینل پر ہندوستانی ناظرین پاکستانی ڈرامہ سیریل دیکھ سکیں گے۔

اس سلسلے میں ’زندگی گلزار ہے‘ نامی سیریل پیر کی رات مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے شروع ہو رہی ہے۔

پاکستان میں ٹی وی کے مشہور اداکار عمران عباس بھی اسی چینل پر دکھائے جانے والے ڈرامے ’میرا نصیب‘ میں دکھائی دیں گے۔

عمران عباس کے مطابق بھارت میں تو ان کی ڈرامہ سیریل کا آغاز اب ہو رہا ہے تاہم اس سے پہلے ہندوستانی ناظرین کے سامنے انھیں اس وقت آنے کا موقع ملا جب سنجے لیلا بھنسالی کی فلم’ گزارش‘ کے لیے انھیں بلایا گیا تھا۔

عمران عباس نے کہا: ’مجھے بھنسالي کی فلم کے لیے کنفرم کیا گیا تھا لیکن ممبئی حملوں نے سب کچھ بدل دیا۔ حالات خراب تھے، سب نے کہا کہ بھارت مت جاؤ لیکن لوگ آہستہ آہستہ سمجھ گئے ہیں کہ شدت پسندی کا شکار تو ہم بھی ہیں۔‘

آغاز میں پاکستان کے دو مقبول سیریل ’زندگی گلزار ہے‘ اور ’عون زارا‘ دکھائے جائیں گے۔

ڈرامہ ’زندگی گلزار ہے‘ كشف مرتضیٰ اور زارون جنید نامی کرداروں کی کہانی ہے اور ان دونوں کا تعلق مختلف خاندانوں سے ہے اور کہانی ان کے گرد گھومتی ہے۔

یہ ڈرامہ پاکستان میں حالیہ چند برسوں کے مقبول ترین ڈراموں میں سے ایک ہے۔

دوسری کہانی ایک رومانٹک کامیڈی ہے جس کو پاکستانی مصنفہ فائزہ افتخار نے لکھا ہے۔

زی ٹی وی کی سینیئر اہلکار شیلجا کیجریوال کے مطابق 23 جون سے سب کچھ اچانک تبدیل نہیں ہو گا لیکن لوگوں کو کچھ نیا دیکھنے کو ملے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’دوسرے مرحلے میں بھارت اور پاکستان مل کر ڈرامہ سیریل تیار کریں گے لیکن ناظرین کے ردعمل کے بعد ہی ایسا ممکن ہو سکے گا۔‘

بھارتی دارالحکومت دہلی میں جب بی بی سی نے لوگوں سے پاکستانی ڈرامہ سیریل مقامی ٹی وی چینل پر دکھائے جانے کے بارے میں پوچھا تو ایک نوجوان نے کہا: ’ٹی وی پر ڈرامہ لازمی دیکھیں گے کیونکہ اس سے پہلے جو پاکستانی ڈرامے دیکھنے کا موقع ملا تو یہ بہت اچھے تھے اور مہذب بھی تھے۔‘