’آشا، اک امید‘ غیر مسلموں کے لیےمعاشرے کا دامن سکڑنے کی کہانی

،تصویر کا ذریعہCRS
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
یہ کہانی لاھور کی جوزف کالونی یا گوجرہ کی نہیں ہے جہاں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے گھروں کو چند برس قبل آگ لگادی گئی تھی لیکن اس ٹیلی فلم کو دیکھ کر ایسا گمان ضرور گزرتا ہے۔
گذشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں شدت پسند رجحانات میں اضافے کے ساتھ غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات میں بھی شدت دیکھی گئی ہے۔
یہ موضوع حالیہ دنوں میں خاص طور پر عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والوں پر حملوں کے بعد پاکستانی معاشرے میں بحث کا باعث بھی بن رہا ہے۔ یہی بحث اب پردہ سکرین تک ایک ٹیلی فلم کے ذریعے پہنچی ہے، اور وہ بھی سرکاری ٹیلی وژن پر۔
مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر پاکستان کے قومی ٹیلی وژن نیٹ ورک پی ٹی وی پر دکھائی جانے والے اس مختصر مگر مؤثر ٹیلی فلم کا نام ہے، ’آشا، اک امید‘

،تصویر کا ذریعہCRS
یہ کہانی ہے ’آشا‘ اور ’میری‘ کی جو ہندو اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہیں اور اسی بنا پر معاشرے کی تنگ نظری کا شکار ہیں۔
پاکستانی معاشرے کا دامن غیر مسلموں کے لیے جس تیزی کے ساتھ سکڑ رہا ہے، اس کا اظہار بہت نپے تلے ڈائیلاگز اور جاندار کرداروں کے ذریعے کیا گیا ہے۔
ایک موقعے پر جب استاد کے طعنوں سے تنگ آکر عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والا ناصر سکول سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اس کا دوست اسے ایک نیک دل بزرگ کا حوالہ دے کر کہتا ہے کہ ان جیسے لوگ بھی تو ہیں معاشرے میں۔ ناصر کو جواب بہت چونکا دینے والا ہے۔ ’یہاں رحمت چاچا ایک ہے اور ماسٹر احسان ہر ایک ہے۔‘
یہ ٹیلی فلم بنانے کا خیال شدت پسندی کے امور کے محقق اور اسی موضوع پر کام کرنے والے ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیش اسٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کو آیا۔ جس کے بعد نجی ادارے سی آر ایس کی مدد سے فلم بنائی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس فلم کی کہانی کا مرکزی خیال عامر رضا کا ہے اور فلم کے لیے اسے مشترکہ طور پر ہدایت کار کاشف نثار اور عامر رضا نے تحریر کیا ہے۔
عامر رانا شدت پسندی اور مذہبی منافرت کے بارے میں اخباری کالم لکھتے اور صاحبان اقتدار اور پالیسی سازوں کو اسی بارے میں مشورے دیتے رہتے ہیں۔ یہ فلم بنانے کا خیال انہیں کیوں آیا؟
عامر رانا وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بہت ضروری ہے کہ پالیسی اور قانون سازوں کو اس مسئلے کے بارے میں آ گہی دی جائے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری عام آدمی کے احساس کو جگانا ہے۔
’ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر آپ حکمرانوں تک تو پہنچ سکتے ہیں لیکن عام لوگوں میں غیر مسلموں کے لیے درد پیدا کیے بغیر معاشرے کی سطح پر تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ اور عام لوگوں تک پہنچنے کے لیے فلم سے زیادہ مؤثر کوئی میڈیم نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہCRS
ایسا بھی نہیں کہ اس فلم میں سرکار اور اس کی پالیسیوں پر بات نہیں کی گئی ہے۔ سرکاری پالیسیوں پر بھی چوٹ کی گئی ہے۔ اور ایک بار نہیں، بار بار کی گئی ہے۔
خاص طور پر اسکول کی سطح پر نصاب میں شامل کتب میں جس طرح سے غیر مسلموں کا ذکر کیا گیا ہے، اور تاریخی واقعات درج کرتے وقت بعض اوقات غیر مسلموں کے کردار کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس پر اس ٹیلی فلم میں کڑی تنقید کی گئی ہے۔
اس فلم کی کہانی بہت ہلکی پھلکی اور عام سی ہے جو پاکستانی معاشرے اور گلی محلوں سے لی گئی ہے۔ عامر رانا کہتے ہیں کہ فلم کا مقصد بھی یہی ہے کہ پاکستانی معاشرے کو نہ صرف آئینہ دکھایا جائے بلکہ انہیں اپنے اردگرد بسنے والے غیر مسلموں کے معاشرتی کردار کے بارے میں بھی کچھ اچھی باتیں بتائی جائیں۔
فلم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاٹ دار جملوں اور سرکاری پالیسیوں کی کھلی تنقید کے باوجود پاکستان ٹیلی وژن کے سنسر بورڈ سے اس کی منظوری پر خاصے خوش اور پرجوش ہیں۔
یہ فلم پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیش اسٹڈیز نے ایک نجی ادارے کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہCRS

،تصویر کا ذریعہCRS







