اردو جسے کہتے ہیں، تہذیب کا چشمہ ہے

’فلموں کی زبان اردو‘ کے ایک سیشن میں نغمہ نگار ارشاد کامل، فلم ہدایت کار مظفر علی، ڈراما نگار ایم کے رینا اور اداکارہ نندتا داس نے فلموں میں اردو زبان کے استعمال اور اس کی اہمیت پر بات چیت کی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’فلموں کی زبان اردو‘ کے ایک سیشن میں نغمہ نگار ارشاد کامل، فلم ہدایت کار مظفر علی، ڈراما نگار ایم کے رینا اور اداکارہ نندتا داس نے فلموں میں اردو زبان کے استعمال اور اس کی اہمیت پر بات چیت کی

بھارتی دارالحکومت دہلی میں دو روزہ ادبی پروگرام ’جشن ریختہ‘ میں پاکستان، بھارت، امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک کے 60 سے زائد اردو شاعر، مصنفین اور فنکاروں نے شرکت کی۔

ریختہ نے اس سفر کا آغاز اردو شاعری کی ایک ویب سائٹ سے کیا تھا جو اب اردو کے جشن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

جشنِ ریختہ میں معروف نقاد، ناول نگار، شاعر اور دانشور شمس الرحمٰن فاروقی اپنی صاحب زادی مہرافشاں فاروقی کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجشنِ ریختہ میں معروف نقاد، ناول نگار، شاعر اور دانشور شمس الرحمٰن فاروقی اپنی صاحب زادی مہرافشاں فاروقی کے ساتھ

شاعر کہتا ہے:

’اردو جسے کہتے ہیں، تہذیب کا چشمہ ہے وہ شخص مہذب ہے جس کو یہ زباں آئی

اس جشن میں داستان گوئي، شاعری، قوالی، غزل اور قصہ گوئي نے اردو کے چاہنے والوں کے دل خوش کر دیے۔ جشن ریختہ میں اردو کتابوں کے بک سٹال، فن خطاطی کے نمونے اور شاعری کی محفلوں کے ساتھ کھانے پینے کےانتظامات بھی تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناس جشن میں داستان گوئي، شاعری، قوالی، غزل اور قصہ گوئي نے اردو کے چاہنے والوں کے دل خوش کر دیے۔ جشن ریختہ میں اردو کتابوں کے بک سٹال، فن خطاطی کے نمونے اور شاعری کی محفلوں کے ساتھ کھانے پینے کےانتظامات بھی تھے
معروف فلمی شاعر جاوید اختر نے جشن میں شامل ہو کر اپنے تاثرات بیان کیے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمعروف فلمی شاعر جاوید اختر نے جشن میں شامل ہو کر اپنے تاثرات بیان کیے

دہلی میں جشن ریختہ کے ذریعے اس بار اردو کے کئی دلچسپ پہلو دیکھنے کو ملے۔ اس جشن میں داستان گوئي، شاعری، قوالی، غزل اور قصہ گوئي نے اردو کے چاہنے والوں کے دل گرما دیے۔

داستان گوئی کے قدیم فن کا احیا: محمود فاروقی اور دانش حسین کا ایک انداز

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنداستان گوئی کے قدیم فن کا احیا: محمود فاروقی اور دانش حسین کا ایک انداز
ثمینہ پیرزادہ کی مانند پاکستانی ڈراموں کے کئی جانے پہچانے چہرے بھی اس جشن میں دیکھنے کو ملے جو خاص طور پر جشن ریختہ میں شامل ہونے آئے تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنثمینہ پیرزادہ کی مانند پاکستانی ڈراموں کے کئی جانے پہچانے چہرے بھی اس جشن میں دیکھنے کو ملے جو خاص طور پر جشن ریختہ میں شامل ہونے آئے تھے

پاکستان سے آئے ہوئے بعض اہم ادیبوں اجمل کمال، امجد اسلام امجد، آصف فرخی، انتظار حسین، ضیاء محی الدین اور انور شعور نے بھی جشن ریختہ میں شرکت کر کے اس کی رونق بڑھائی۔

اس جشن میں ’اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ،‘ منٹوکی کہانیوں پر مبنی ڈرامہ ’ٹیٹوال کا کتا‘ اور ’لال قلعے کا آخری مشاعرہ‘ جیسے کئی ادبی پروگرام پیش کیے گئے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناس جشن میں ’اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ،‘ منٹوکی کہانیوں پر مبنی ڈرامہ ’ٹیٹوال کا کتا‘ اور ’لال قلعے کا آخری مشاعرہ‘ جیسے کئی ادبی پروگرام پیش کیے گئے

اس جشن کے دوران بحث و مباحثے کی محفلوں اور تبادلۂ خیال کی نشستوں کے ذریعے اردو کے مختلف پہلوؤں کو جاننے کا موقع ملا۔

پاکستان سے آئے ہوئے ڈراما آرٹسٹ عثمان پیرزادہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپاکستان سے آئے ہوئے ڈراما آرٹسٹ عثمان پیرزادہ

جشن ریختہ کی آخری شام کو موسم کا مزاج بدلا ہوا تھا۔ گھرے ہوئے بادلوں کے درمیان گلوکارہ رادھیكا چوپڑا نے موقعے کی مناسبت سے غزل ’دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا، اس طرح برسات کاموسم کبھی آیا نہ تھا‘ پیش کی اور اس خوبصورت جشن کوانجام تک پہنچایا۔

جشن میں خطاطی کے نمونے بھی پیش کیے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجشن میں خطاطی کے نمونے بھی پیش کیے گئے تھے