شدت پسندی کا شکار ہوتے میوزک کانسرٹ

- مصنف, نوشین عباس
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ہائی سکول کی طالب علمی کے زمانے میں پہلی بار میوزک کانسرٹ پر جانا ایک نہایت دلکش اور خوش کن موقع ہوتا تھا۔ اپنے دوستوں کے ساتھ تیار ہو کر جانا، یہ طے کرنا کس کس کے والدین کانسرٹ کی جگہ لے جائیں گے اور پھر واپس لائیں گے۔ پہلی دفعہ براہ راست گانا سننے کا جوش اور مزہ اور ساتھ خود بھی گانا بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی تھی، کانسرٹ کے لیے خریدا ہوا ٹکٹ سنبھال کر ڈائری میں محفوظ رکھا جاتا اور اس کے متعلق برسوں تک تذکرہ کرتے رہتے۔ شاید اپنے بچوں کو بھی یہ واقعہ مزے لے لے کر سناتے۔ یہ سب کچھ پاکستان میں ہوا کرتا تھا مگر اب تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔
1990 کی دہائی تک تو بین الاقوامی ستارے بھی پاکستان میں میوزک کی محفلیں سجانے آتے تھے۔ ٹکٹ پہلے سے ہی خرید لیے جاتے تھے اور صرف جوان ہی نہیں بڑے بوڑھے بھی موسیقی سننے آتے تھے۔
بعض اوقات ٹکٹ مہنگے ہوتے تھے لیکن عموماً ان کی قیمت مناسب ہی ہوتی تھی۔ ٹکٹ تو چند ہی روز میں سب کے سب بک جاتے تھے۔ جب سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بیرونی ممالک سے موسیقی کے ستاروں نے پاکستان آنا چھوڑ دیا تو پھر ہمارے اپنے ہی ملک میں کچھ ممتاز ستارے تھے اور کانسرٹ پھر یونیورسٹیوں اور پبلک آڈیٹوریموں میں منعقد کیے جاتے تھے۔

ان کے ٹکٹ بھی بہت جلد بک جاتے تھے مگر اب لائیو کانسرٹ صرف اس صورت میں سن سکتے ہیں جب کوئی بڑی کمپنی اپنے انتظام کے تحت کسی پروگرام کے دوران موسیقی کا اہتمام کرے اور لوگ بن ٹھن کر گول میزوں پر براجمان ہوں۔
قدامت پسند سوچ رکھنے والے لوگ دوسروں سے سماجی حدود کی پابندی کروانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
میں نے جماعت اسلامی طلبہ تنظیم کے رہنما عبدالمقیت سے بات کی اور ان سے پو چھا کہ وہ اور ان جیسے دوسرے طلبہ یہ کیوں سوچتے ہیں کہ وہ اسلام سے متعلق ان کا نظریہ دوسرے لوگوں پر مسلط کرنے کا حق رکھتے ہیں؟
جواب میں انھوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ یہ ذمہ داری ان کہ کندھوں پر ہی ہے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا: ’کچھ دن پہلے لاہور کی چار نجی یونیورسٹیوں نے موسیقی کے ایک ادارے کے ساتھ ایک ایم او یو سائن کیا ہے تو ہمیں اس پر بڑی تشویش ہے کہ طلبہ کو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث کیا جائے جن میں ان کی تعلیم ، کردار اور ان کا سارا مستقبل بھی داؤ پر لگ جائے۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ اس حوالے سے عدالت سے کسی قسم کا ریلیف حاصل کیا جائے۔‘

ایک ابھرتے ہوئے پاپ سٹار عزیر جسوال نے ملک میں عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے متعلق بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ماضی میں ہوتا تھا اب وہ بالکل ناممکن ہو گیا ہے۔ ان کے بقول اب فنکاروں کے لیے مواقع ختم کیے جا رہے ہیں اور ان کی نظریں بیرونِ ممالک ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ حالات نے لوگوں کو متعین کردہ حدود کے اندر زندگیاں گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔
’لوگ شدت پسند ہو گئے ہیں جلدی ردِ عمل دیتے ہیں اور بے صبری بھی بہت ہے، ساتھ میں اس سے لوگوں کا دم گھٹ رہا ہے۔ انسانی جان کی کوئی قدر نہیں رہی تو میوزک سننا اور اس سے لطف اندوز ہونا تو دور کی بات ہے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تحمل اور برداشت کے فقدان کی خود ریاست ذمہ دار ہے جہاں کانسرٹ کے اہتمام اور انعقاد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر کالعدم تنظیمیں کھلے عام اور باقاعدگی سے ریلیاں کرتے ہیں۔
عاطف اسلم کے بیس پلیر سمیر شامی نے ہمیں بتایا کہ صرف پانچ سال پہلے وہ پاکستان میں سال میں 30 کانسرٹ کیا کرتے تھے اور اب مشکل سے تین کر پاتے ہیں۔
سمیر شامی جیسے فنکار سمجھتے ہیں کہ ریاست نے اپنے بچوں کا نہ صرف تحفظ سے محروم کر دیا ہے بلکہ ان سے بچپن کا حق بھی چھین لیا ہے۔








