کوک سٹوڈیو کی زوئی وکا جی کا سفر
زوئی وکا جی 15 سال کی عمر سے اپنے گانے لکھ رہی ہیں اور گٹار بجا رہی ہیں۔ موسیقی اُن کی زندگی کا حصہ ہے اور اُن کے گھر میں بھی سب کو موسیقی سے شغف تھا۔ اُن کا بھائی ایک بینڈ میں گاتا تھا اور والدہ بھی گٹار بجاتی اور گاتی تھیں۔
انھوں نے بی بی سی اردو کی فیفی ہارون سے بات کرتے ہوئے ان پانچ گانوں کے بارے میں بات کی جن کا ان کی زندگی پر اثر ہے۔ یہ آڈیو انٹرویو سنیے۔
ان کی زندگی کی چند جھلکیاں ذیل میں پیشِ خدمت ہیں۔

،تصویر کا ذریعہZoe Viccagi
’میں بالآخر ایک ایسی جگہ پہنچی جہاں پہنچ کے مجھے لگا کہ مجھے زندگی میں کیا چاہیے۔ جس دن سے میں نے گٹار پکڑنا شروع کیا اُس دن سے میں نے جو گانے لکھے یا سنے اُن سب کو جمع کر کے میں نے ایک البم بنایا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہzoe viccagi
زوئی کہتی ہیں کہ ’میری نانی بھی گاتی تھیں۔ میں نے سنا ہے کہ انھوں نے ریڈیو کے لیے کچھ گانے گائے تھے۔ پھر میری امی بھی ریڈیو کے لیے گاتی تھیں۔ ان کا بینڈ بھی تھا۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ ہماری مسیحی برادری کے لیے موسیقی بہت اہم ہے۔ جیسا کہ ہمارے جرگہ میں بھی موسیقی ہوتی ہے۔ موسیقی ہماری ثقافت میں بہت گہری جڑیں رکھتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہzoe viccagi
زوئی کہتی ہیں کہ ’جب میں کالج گئی تھی تو میں بہت گھر کو یاد کرتی تھی اور مجھے بہت یاد آتا تھا۔ امی ابو جب مجھے کال کرتے تو میں روتی تھی کہ مجھے گھر آنا ہے۔ تو پاکستان کے جو گانے تھے وہ سن کر مجھے کچھ سکون ملتا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہzoe viccagi
زوئی کا کہنا ہے کہ ’صرف تین سال ہوئے ہیں جب سے میں اردو میں گا رہی ہوں۔ آغاز میں تو بہت مشکل تھا۔ پہلا گانا جو میں نے گایا تھا وہ بچھڑے یار تھا، یہ سٹرنگز کا گانا تھا اس میں بچھڑا میں جو ’ڑ‘ آتا ہے اسے نکالنے میں بہت مشکل ہوئی تھی۔ سٹوڈیو میں جب ہم ریکارڈنگ کے لیے گئے تھے تو اس چیز میں ایک دو گھنٹے نکل گئے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہzoe viccagi
زوئی کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں تو دوستی ہو سکتی ہے، اگر دو لوگ ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں اور آپ کے تعلقات دوستی کی بنیاد پر بنے ہوں تو میں سمجھتی ہوں کہ بعد میں اس طرح کی دوستی قائم رہ سکتی ہے۔ میرا ذاتی تجربے میں دو لوگ جنھیں میں بہت پسند کرتی تھی وہ میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ میرے خیال میں اس طرح کے تعلقات استوار کرنے میں ایک سال تو لگ ہی جاتا ہے جس میں آپ رابطہ کم ہی رکھیں ایک دوسرے سے کیونکہ جو دوستی اور محبت کی لکیر ہوتی ہے اسے استوار کرنے میں وقت تو لگتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہZoe Viccagi
انھوں نے بتایا کہ ’جب آپ کا دل ٹوٹتا ہے تو میرے خیال میں اس سے زیادہ تکلیف دہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے ہماری موسیقی میں لوگ دل کے ٹوٹنے کے بارے میں زیادہ لکھتے ہیں۔ میرے بھی ایسے کافی گانے ہیں جس میں یا تو دل ٹوٹا ہے اور میں رو رہی ہوں یا دل ٹوٹنے کے بعد میں کہہ رہی ہوں کہ نہیں، آگے بڑھنا چاہیے اور بھی ہے زندگی میں، سمندر میں اور بھی مچھلیاں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہzoe viccagi
’خواتین کے فن کے میدان میں کام کرنے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں ایک خاتون گلوکار کے طور پر کام کرنا بہت مشکل ہے۔ جب آپ اپنے پروڈیوسر کے ساتھ کام کرنے جا رہے ہوتے ہیں تو ایک مرد کا ساتھ ہونا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ تحفظ کے مسائل ہیں یا لوگ غلط سوچتے ہیں۔ اس طرح کے مسائل ہیں ہمارے مثال کے طور پر نازیہ حسن کے ساتھ زہیب ہوتے تھے، صنم ماروی کے ساتھ اُن کے شوہر ہوتے ہیں جو ہر جگہ جاتے ہیں حدیقہ کے ساتھ اُن کے بھائی ہوتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPaper mag
’بچپن میں ہم گھر کے سامنے سٹیج بنا کر یہ ظاہر کیا کرتے تھے کہ ہم گا رہے ہیں، مگر حقیقت میں تو ہمارے سامنے پودے اور باغ ہوتا تھا جس کے سامنے ہم فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہzoe viccagi
زوئی نے نازیہ حسن نے بتایا کہ ’نازیہ حسن ایک ایسی پاپ گلوکارہ تھیں جنھیں آپ اپنے گھر لا کر اپنے والدین سے ملوا سکتے تھے۔ بہت نفیس مزاج تھیں اور کئی خواتین انھیں نمونے کے طور پر دیکھتی ہیں۔‘







