ٹینا ثانی کے پانچ پسندیدہ نغمے
مشہور پاکستانی گلوکارہ ٹینا ثانی ڈھاکہ میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے اپنے بچپن کا کچھ حصہ کابل میں گزارا۔ انھوں نے کلاسیکی اور سیمی کلاسیکی موسیقی میں اپنا نام پیدا کیا۔
انھوں نے بی بی سی اردو کی فیفی ہارون سے بات کرتے ہوئے ان پانچ گانوں کے بارے میں بات کی جن کا ان کی زندگی پر اثر ہے۔ یہ آڈیو انٹرویو سنیے۔
ان کی زندگی کی چند جھلکیاں ذیل میں پیشِ خدمت ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTina Sani
ٹینا ثانی نے اپنے والد کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’مجھے یاد ہے کہ ایک گانا میں اور میرے والد صاحب ساتھ میں گایا کرتے تھے، وہ کے ایل سہگل کا گانا تھا ’’بابل مورا۔‘‘ ہم دونوں اسے گایا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک موقعے پر میری والدہ بھی بیٹھی تھیں جو رو پڑیں۔‘

،تصویر کا ذریعہtina sani
ٹینا نے بتایا کہ ’دوسرا گانا جس سے میری خوشی اور غمی کی یادیں وابستہ ہیں وہ ہے ’کورا کاغذ تھا یہ من میرا‘ جو آرادھنا فلم سے تھا اور ہم نئے نئے کابل گئے تھے اور ہمیں اجازت نہیں ہوتی تھی فلمیں دیکھنے کی، اردو فلموں کی تو بالکل اجازت نہیں ہوتی تھی۔ یہ پہلی فلم تھی جو میں نے دیکھی۔‘

تیسرے گانے کے بارے میں ٹینا نے بتایا کہ اس سے کوئی خوشی یا غم کی کیفیت جڑی نہیں ہوئی مگر یہ میری زندگی کے ایک اہم دور کی بات ہے:
’میں ایک درزی کی دکان کے باہر گاڑی میں اپنے بھائی کا انتظار کر رہی تھی اتنا وہ کوئی مختلف گانا تھا اتنی کوئی وہ مختلف آواز تھی۔ ایسی آواز تھی جسے میں جانتی تھی۔ دور کسی ریڈیو پر یہ گانا بج رہا تھا اور وہ تھا نازیہ حسن کا ’’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے۔‘‘
’نازیہ اور میرے راستے ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ جب ہم کابل سے واپس آئے تو یہ چھٹی یا ساتویں جماعت میں تھی اور ہم دونوں ایک ہی دن میں سکول (کراچی امیریکن سکول) میں آئے تھے۔ پھر اس کے بعد سکول میں ان کے گانے سنتے تھے اور جب میں نے یہ گانا سنا تو سوچا میرے خدا یہ نازیہ ہے؟ کیونکہ میں اسے جانتی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہMOBEEN ANSARI
ایک اور گانا جس کے بارے میں ٹینا نے بتایا کہ وہ اردو زبان کا نہیں ہے مگر اس نے انھیں متاثر کیا وہ سندھی زبان کی لوک گلوکارہ مائی بھاگی کا گانا تھا ’کھڑی نیم کے نیچے۔‘ ’مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ گانا اتنا مشہور کیوں ہوا۔ اس سے پہلے میں ایک گانا گا چکی تھی مگر یہ میرا پہچان بنا۔‘ یہ تصویر مبین انصاری کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTina Sani
اپنے پسندیدہ گانوں اور غزلوں کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے ٹینا نے کہا: ’کس کا نام لوں عابدہ پروین کی بے انتہا چیزیں ہیں۔‘

اپنے پانچویں گانے کی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جو غضب کا کام نصرت فتح علی خان صاحب نے کیا ہے اس میں انھوں نے ایک چیز گائی تھی ’’کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے۔‘‘‘
نصرت فتح علی خان کے بعد ٹینا کا کہنا تھا کہ ’بہت بہت کم کوئی پسند آیا۔‘

،تصویر کا ذریعہtina sani
ٹینا ثانی کو 2003 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔

،تصویر کا ذریعہTina Sani
نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی ٹینا کے فن کو پذیرائی ملی جہاں سابق بھارتی صدر پرتیبھا پاٹل نے انھیں 2011 میں فیض احمد فیض کی صد سالہ تقریبات کے دوران انھیں نمایاں کارکردگی کا ایوارڈ دیا۔

،تصویر کا ذریعہtina sani
ٹینا ثانی نے پاکستان میں منعقد ہونے والے ٹیلنٹ شو ’پاکستان آئیڈل‘ میں بطور مہمان جج شرکت کی۔

،تصویر کا ذریعہTina Sani
ٹینا اپنی بھانجیوں ریحام اور نادیہ حسین کے ساتھ جو پاکستان کی مشہور ماڈل اور اداکارہ ہیں۔







