سوئس میوزیم ’نازی فن پارے‘ لینے پر رضامند

،تصویر کا ذریعہ
سوئٹزرلینڈ کے برن آرٹ میوزیم نے جرمنی کے نازی دور کے ذخیرہ اندوز کورنیلیئس گرلٹ کے ترکے میں شامل سینکڑوں فن پاروں کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
توقع ہے کہ ان میں سے بہت سے فن پارے اس وقت تک جرمنی ہی میں رہیں گے جب تک ان کے اصل مالک نہیں مل جاتے۔
گرلٹ اڈولف ہٹلر کے آرٹ ڈیلر کے بیٹے تھے اور انھوں نے نایاب تصاویر کا بڑا ذخیرہ جمع کیا تھا جس میں پکاسو اور مونے جیسے مصوروں کے فن پارے شامل ہیں۔
اس سال مئی میں 81 سال کی عمر میں انتقال کرنے سے قبل انھوں نے برن میوزیم کو اپنا ’واحد وارث‘ قرار دیا تھا۔ فروری سنہ 2012 میں حکام نے ٹیکس چوری کی تفتیش کے سلسلے میں ان کے میونخ میں واقع فلیٹ پر چھاپہ مار کر 1280 فن پارے قبضے میں لے لیے تھے۔
برن میوزیم کے صدر کرسٹوف شوئبلین نے پیر کو برلن میں ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ وہ یہ ترکہ قبول کرنے پر رضامند ہیں، لیکن کوئی ایسا فن پارہ میوزیم میں داخل نہیں ہونے پائے گا جس کے ’بارے میں شبہ ہو کہ اسے لوٹا گیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہ
میوزیم نے جرمن حکام کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے کہ تمام چوری شدہ فن پاروں کو ان کے اصل مالکان تک پہنچایا جائے گا۔
کورنیلیئس گرلٹ کے والد ہلڈابرانڈ گرلٹ کو نازی حکام نے حکم دیا تھا کہ وہ ان فن پاروں کو ٹھکانے لگائیں جنھیں یہودیوں سے چھینا گیا تھا، یا جنھیں نازیوں نے ’انحطاط پذیر‘ قرار دے کر جرمن عجائب گھروں سے ہٹوا دیا تھا۔
اس ذخیرے میں پیئر اگوست رینوار، پابلو پکاسو، مارک شگال، امیل نولڈے اور میک لیبرمین جیسے چوٹی کے مصوروں کی تصاویر شامل تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم گرلٹ کی ایک 86 سالہ کزن اوٹا ورنر نے جمعے کے روز دعویٰ کیا کہ یہ تصاویر میوزیم کے نام کرتے وقت گرلٹ کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی، اور وہ اس سلسلے میں مقدمہ دائر کریں گی۔







