دنیا کی مہنگی ترین تصویر کی نیلامی

برطانوی مصور فرانسس بیکن نے اپنے دوست اور فن کار لُوشن فروئڈ کی جو تصویر سنہ 1969 میں بنائی تھی وہ نیویارک کی ایک نیلامی میں 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالر میں فروخت ہونے کے بعد تاریخ کی سب سے مہنگے داموں بکنے والی تصویر بن گئی ہے۔
سنہ 1969 میں ’تھری سٹڈیز آف لُوشن فروئڈ‘ کے عنوان سے بنائی گئی ان تین تصویروں کے مجموعے کو مصوری کی دنیا کا شاہکار قرار دیا جاتا ہے۔
کرسٹی نیلام گھر کا کہنا ہے کہ یہ نیلامی صرف چھ منٹ جاری رہی اور اس میں لوگوں نے بڑے جوش و خروش سے حصہ لیا۔
اس سے قبل ایڈورڈ مُنک کی ’دی سکریم‘ مہنگی ترین پینٹنگ تھی جو گذشتہ سال 11 کروڑ نو لاکھ 90 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔
اسی نیلامی میں جیف کونز کے بنائے ہوئے مجسمے نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ ان کا مجسمہ عہدِ حاضر کے کسی بھی مصور یا مجسمہ ساز کا سب سے زیادہ قیمت میں فروخت ہونے والا فن پارہ بن گیا۔
ان کا مجسمہ ’بیلون ڈاگ‘ سٹین لیس سٹیل سے بنائے ہوئے پانچ مجسموں میں سے ایک تھا، اور یہ پانچ کروڑ 84 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوا۔
اس سے قبل کسی زندہ مصور کے بنائے ہوئے مہنگے ترین فن پارے کا اعزاز جیراڈ رٹچر کی تصویر کو حاصل تھا جس میں انھوں نے اٹلی کے ایک چوک کا منظر پیش کیا تھا اور یہ تین کروڑ 71 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ’تھری سٹڈیز آف لوشن فروئڈ‘ کو نیلامی میں پیش کیا گیا ہے اور اس کی بولی آٹھ کروڑ ڈالر سے شروع ہوئی تھی۔ نیلامی سے قبل عام اندازہ یہی تھا کہ یہ ساڑھے آٹھ کروڑ میں فروخت ہو گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹیلی فون پر رابطے کے ذریعے نیلامی میں شامل میں ایک خریدار نے اس کی قیمت 12 کروڑ سات لاکھ ڈالر لگائی لیکن کمیشن کی رقم شامل کرنے کے بعد انھیں مجموعی طور 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے پڑیں گے۔
نیلامی کرنے والی کمپنی نے اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔
1969 میں جب بیکن کا سٹوڈیو آگ لگنے سے تباہ ہو گیا تو انھوں نے لندن کے رائل کالج آف آرٹ میں تین تصاویر پر مشتمل ’تھری سٹڈیز آف لوشن فروئڈ ‘ کے نام سے مشہور یہ پینٹنگز بنائی تھیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد اور عہد حاضر کے فن کے نقاد فرانسس آؤٹریڈ کے مطابق فرانسس بیکن کی یہ تصویر مصوری کا اصل شاہکار ہے جو اس دور میں نیلامی کے لیے پیش کیا گیا ہے۔







