نوبیل انعام یافتہ ہگز کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

اس سال فزکس کے نوبیل انعام کے مشترکہ فاتح پیٹر ہگز نے کہا ہے کہ جب ان کی عمر 85 سال ہو جائے گی تو وہ ریٹائر ہو جائیں گے۔
بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انھیں ’سر‘ کے خطاب کی پیش کش ہوئی تھی لیکن انھوں نے اسے ٹھکرا دیا کیوں کہ وہ اس قسم کا خطاب نہیں چاہتے تھے۔
<link type="page"><caption> ’گاڈ پارٹیکل‘ کی ممکنہ دریافت کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2012/07/120704_higgs_boson_like_particle_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات سے الجھن ہوتی ہے کہ انھیں دوسرے نوبیل انعام یافتہ سائنس دانوں کی طرح دیکھا جائے۔
84 سالہ سائنس دان نے کہا کہ انھوں نے اپنے نام سے موسوم ہگز ذرے کی دریافت پر بہت کم وقت صرف کیا تھا۔
انھوں نے کہا: ’مجھے ایک ایسی چیز کے لیے نوبیل انعام مل رہا ہے جس پر میں نے 1964 میں دو یا تین ہفتے کام کیا تھا۔ یہ میری زندگی کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر آپ آئن سٹائن کی مثال لیں تو ان کے کارنامے کئی گنا زیادہ بڑے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پروفیسر ہگز شمالی برطانیہ کے شہر نیوکاسل میں پیدا ہوئے تھے، لیکن انھوں نے اپنے نظریے پر سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں کام کیا۔
ان کی عہد ساز تحقیق کی مدد سے ہگز بوسون دریافت ہوا۔ اس ذرے کی دریافت سائنس کی دنیا کے اہم ترین اہداف میں شامل تھی۔ بالآخر یورپ کے ایٹمی تحقیقاتی مرکز سرن کے سائنس دانوں اس کا وجود ثابت کیا۔
جولائی 2012 میں سرن کے ماہرینِ طبیعات نے ایک ایسے ذرے کی دریافت کی تصدیق کی جو ہگز بوسون کی خصوصیات پر پورا اترتا تھا۔
پروفیسر ہگز نے کہا کہ انھیں 1999 میں وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے سر کے خطاب کی پیش کش کی تھی، لیکن انھوں نے اسے ٹھکرا دیا:
’میرا خیال تھا کہ یہ قبل از وقت ہے۔ اور ویسے بھی میں اس قسم کا خطاب نہیں چاہتا تھا۔ بہت شکریہ۔‘
ہگز 17 سال قبل تدریسی ذمے داریوں سے سبک دوش ہو گئے تھے، لیکن وہ اب بھی سائنسی علم کے تبادلے کے سلسلے میں خاصے فعال ہیں۔ تاہم وہ اپنی 85 ویں سال گرہ کے بعد ’باقاعدہ‘ طور پر ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔







