’ہگز بوسون‘ کی تلاش پر برطانیہ اور بیلجیم کے سائنسدانوں کو نوبیل انعام

برطانوی سائنسدان پروفیسر پیٹر ہگز اور بیلجیئم کے فرانسوا اگلرٹ نے مشترکہ طور پر 2013 کے لیے طبیعات کا نوبیل انعام جیت لیا ہے۔
انہیں یہ انعام ہگز بوسون پر تحقیق کے لیے دیا گیا ہے۔
ہگز بوسون وہ ’سب اٹامک‘ ذرہ ہے جسے اس کائنات کی تخلیق کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔
یہ دونوں سائنسدان سنہ 1960 کی دہائی میں یہ خیال پیش کرنے والی ٹیم میں شامل تھے جس نے کائنات کے بنیادی مادے کی کمیت کے بارے میں وضاحت کے لیے ایک نظام کی تجویز دی تھی۔
سائنسدان گذشتہ 45 برس سے ایسے ذرے کی تلاش میں تھے جس سے یہ واضح ہو سکے کہ مادہ اپنی کمیت کیسے حاصل کرتا ہے۔ بالآخر جولائی 2012 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں واقع ’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ منصوبے سے وابستہ سائنسدان ہگز بوسون یا ’گاڈ پارٹیكل‘ کو دریافت کر پائے۔
رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنس کے مستقل سیکرٹری سٹیفن نرمارك نے کہا: ’اس سال کا ایوارڈ ایک بہت چھوٹی چیز کے بارے میں ہے جو بہت بڑا اثر ڈالتی ہے۔‘

ہگز بوسون کا نظریہ پیش کرنے والے پروفیسر پیٹر ہگز میڈیا سے دور رہنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور جب نوبیل انعام کا اعلان ہوا تب بھی وہ خود تبصرے کے لیے دستیاب نہ تھے۔
وہ سکاٹ لینڈ کی ایڈنبرا یونیورسٹی میں نظریاتی طبیعیات کے اعزازی پروفیسر ہیں۔ یونیورسٹی میں ان کے ساتھ کام کرنے والے ایلن واکر نے برطانوی میڈیا کو بتایا: ’وہ میڈیا سے بچنے کے لیے چھٹی پر گئے ہوئے ہیں، ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایڈنبرا یونیورسٹی نے ہگز کی جانب سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’میں یہ ایوارڈ پا کر بے حد خوش ہوں اور رائل سویڈش اكیڈمي کا شکرگزار ہوں۔ ان تمام لوگوں کو بھی مبارکباد جنہوں نے اس نئے ذرے کی تلاش میں تعاون کیا اور میرے خاندان، دوستوں اور ساتھی ملازمین کا بھی تعاون کے لیے شکریہ۔‘
ادھر فرانسوا اگلرٹ نے کہا کہ وہ بھی’خوش‘ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے پہلے لگا کہ یہ انعام مجھے نہیں ملا ہے کیونکہ میں ایوارڈ کا اعلان نہیں دیکھ پایا تھا۔‘







