جدید پینٹنگز کی نیلامی نے تمام ریکارڈ توڑ دیے

نیویارک کی مشہور آرٹ گیلری کرسٹی میں مصوری کے معاصر اور جدید فن پاروں کی ساڑھے 49 کروڑ ڈالر میں نیلامی ہوئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔
اس نیلامی میں جیکسن پولاک، روئے لِیکنسٹائن اور ژاں میشل باسکیا جیسے اہم مصوروں کی تصاویر شامل تھیں۔
تصاویر کی اس فروخت نے 16 نئے عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ نو تصاویر ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ قیمت پر فروخت ہوئیں، جبکہ 25 نے 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ بٹورے۔ کرسٹی کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ ’آرٹ کی منڈی میں ایک نئے عہد کی غمازی کرتا ہے‘۔
سب سے مہنگی تصویر پولاک کی ’نمبر 19‘ تھی، جو پانچ کروڑ 84 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی۔ یہ قیمت پہلے سے لگائے گئے اندازوں سے دگنی ہے۔
لِیکنسٹائن کی ’پھولوں والا ہیٹ پہنے خاتون‘ پانچ کروڑ 61 لاکھ ڈالر میں، جبکہ بسکیا کی ’ڈسٹ ہیڈز‘ چار کروڑ 88 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی۔
یہ ان تینوں فنکاروں کی مہنگی ترین تصاویر ہیں۔
کرسٹی نے اس نیلامی کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا ہے۔ 70 میں سے صرف چار تصاویر فروخت نہ ہو سکیں۔
کرسٹی کے بعد از جنگ اور جدید آرٹ کے شعبے کے سربراہ بریٹ گوروی نے کہا کہ اس نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم ’نیلامی کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرسٹیز انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سٹیو مرفی نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ نئے خریدار مارکیٹ میں تیزی کا باعث ہیں۔
انھوں نے کہا ’گذشتہ برس ہمارے 25 فیصد گاہک نئے تھے۔ آج رات کی تین چار اہم تصاویر ایسے لوگوں نے خریدی ہیں جنھوں نے پہلے کبھی یہاں سے کوئی تصویر نہیں خریدی تھی‘۔
مارک روتھکو کی سنہ 1958 میں بنائی جانے والی تصویر ’بلیک آن میرون‘ چوتھی مہنگی ترین تصویر تھی، جو دو کروڑ 27 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی۔
جو تصاویر فروخت نہ ہو سکیں ان میں جیف کونز اور فرانز کلائن کی تصاویر شامل تھیں۔







