انمول بلوچ اور ڈرامہ سیریل ’سیانی‘: تم اتنی غلط لڑکی کیوں بنی ہو؟ اب تم سے کوئی شادی نہیں کرے گا‘

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM/anmol baloch
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ فیس بک ویسے تو پسند ناپسند، ذاتی تبصروں اور خیالات کے اظہار کا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے ذریعے کوئی اداکار بن جائے اور شہرت کی بلندیوں کو بھی چُھو لے تو یقیناً یہ ایک قابل حیرت بات لگتی ہے جس کی ایک مثال انمول بلوچ ہیں۔
سیلفی سے آڈیشن تک کا سفر
انمول بلوچ نے اداکاری کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی نہ کبھی سکول یا کالج کے ڈرامہ میں شریک ہوئیں لیکن انھیں ایکٹنگ کا شوق تھا۔
بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے انمول بلوچ نے بتایا کہ انھوں نے فیس بک پر آئی ڈی بنائی اور ’اس پر لکھ دیا ایکٹر اور اس پر کچھ سیلفیز لگا دیں لیکن اس وقت تک میرے پاس کوئی کام نہیں تھا۔‘
'ڈائریکٹر محسن مرزا نے مجھے کال کی اور کہا کہ میرا ایک پراجیکٹ چل رہا ہے اس میں ایک کیریکٹر ہے اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ آپ کر سکتی ہیں۔ میں نے سوچا پتہ نہیں کون ہیں۔ مذاق کر رہے ہیں۔ میں نے پھر ان کی پروفائل دیکھی۔ انھوں نے کافی اچھے اچھے پراجیکٹ کیے ہوئے تھے۔ میں نے امی سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ نہیں نہیں، کیا ہو گیا ہے تمھیں۔‘
انمول بلوچ بتاتی ہیں کہ والدہ کی مخالفت کے باوجود انھوں نے محسن مرزا سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کہاں آنا ہے جس پر جواب ملا کہ گھر آ جائیں۔ وہ تھوڑا نروس ہوئیں کیونکہ ’شوٹ کے لیے تو آفس بلانا چاہیے تھا۔‘
’تو محسن مرزا نے کہا کہ بیٹا میرے گھر میں شوٹ بھی ہوتا ہے اور آگے جو پراجیکٹ کر رہا ہوتا ہوں اس کی سکرپٹ ریڈنگ بھی ہوتی ہے۔ آپ یہاں آ جاؤ۔‘
’اس کے بعد میں والدہ کو لے کر اُن کے گھر چلی گئی۔ بس وہاں سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور انھوں نے مجھے ایک کردار دیا اس کے بعد میں نے عرفان اسلم کا ڈرامہ سیریل ’کم بخت تنو‘ کیا۔ اس میں میں چھوٹا کردار تھا، میں نوشین کے دوست بنی تھی۔‘

’میں واش روم میں روتی تھی‘
انمول بلوچ کو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن انھوں نے ہار نہیں مانی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ بتاتی ہیں کہ ’جب کام شروع کیا تو بہت سارے ڈائریکٹرز سے بہت ساری ڈانٹ کھائی اور باتیں بھی سُنیں کہ صرف اچھی شکل ہونے سے ایکٹر نہیں بن جاتے۔ ایکٹر کے لیے ایکٹنگ آنا بھی ضروری ہے تم سے نہیں ہو گا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’میں واش روم میں جا کر روتی تھی، گھر میں آ کر کہتی تھی کہ مجھے یہ کام نہیں کرنا، میں نہیں جاؤں گی لیکن اگلے دن میں خود ہی تیار ہو کر شوٹ پر چلی جاتی تھی کہ کوئی بات نہیں، آج میں اور اچھا کروں گی، آج مجھے ڈانٹ نہیں پڑے گی، ایسے کرتے کرتے میں آخر سیکھ گئی۔‘
’منفی کردار میں کام کرنے کی گنجائش زیادہ ہے‘
جیو انٹرٹینمنٹ کے ڈرامہ سیریل ’سیانی‘ میں وہ کرن کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
انمول بلوچ بتاتی ہیں کہ انھوں نے پہلے یہ رول کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن بعد میں جب سکرپٹ پڑھا اور کرن کی چالاکیاں دیکھیں تو اسے کرنے کے لیے رضامند ہو گئیں۔
’میں نے ابھی تک ایسا کردار نہیں کیا تھا۔ جب کام کیا تو لوگوں نے بہت تعریف کی ورنہ میں یہ سوچتی تھی کہ منفی کردار کرنے سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔‘
’نیگیٹو کردار کرنے میں ایکٹنگ کی زیادہ گنجائش ہوتی ہے مثلا ایک عام سے گھر کی لڑکی دکھائی گئی ہو ، جس پر ظلم ستم ہو رہا ہے تو اس کو بس رونا ہے یا باتیں سُننا ہیں لیکن نیگیٹو کردار میں ایسا نہیں ہے۔ نیگیٹو کردار میں زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں جہاں میں چیخی یا اپنی آواز بنائی ہے وہاں کافی محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرا ایک بھی سین ایسا نہیں ہوتا تھا جس کی لائنز مجھے یاد نہ ہوں۔‘

’عام زندگی میں ڈرامے سے الگ ہوں‘
انمول کہتی ہیں کہ ڈرامے کو ڈرامے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ’سیانی میں بھی ایک سبق ہے، اس میں جو زبان استعمال کی گئی ہے اور والدہ کے ساتھ جو رویہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی زبان سے ہی اس کے کردار کو مزید نیگیٹو بنایا گیا ہے۔‘
’میں نے ڈائریکٹر سے بھی بات کی تھی لیکن وہ زبان اس کردار کی ڈیمانڈ تھی۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کرن کے ساتھ کچھ غلط ہو گا وہ سیکھ جائے گی۔ اس کے بچے بھی ہو جاتے ہیں لیکن وہ سدھری نہیں ہے، چیلنج یہ ہے کہ میں حقیقی زندگی میں ایسی نہیں ہوں مطلب کہ مجھے بہت غصہ بھی آئے گا تو میں چپ کر جاتی ہوں۔ الگ سے جا کر رو لیتی ہوں مطلب اتنا نہیں بول سکتی۔‘
محسن عباس حیدر کے ساتھ کام کا تجربہ
سیانی میں انمول بلوچ کے ساتھ محسن عباس حیدر لیڈ رول کر رہے ہیں جن پر ان کی سابقہ بیوی نے گھریلو تشدد کا الزام عائد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
انمول کہتی ہیں کہ اس معاملے کو لےکر انھوں نے کبھی خود کو غیر محفوط نہیں سمجھا کیونکہ ’محسن کو عورتوں کو عزت دینا آتا ہے۔ اُن کے ساتھ کام کر کے مزہ آیا۔‘
’جو بھی متنازعہ باتیں ہوتی ہیں میں اُن پر یقین نہیں کرتی کیونکہ وہ سچ بھی ہو سکتی ہیں تو جھوٹ بھی ہو سکتی ہیں۔ جو چیز آپ نے آنکھوں سے دیکھی اور کانوں سے سُنی نہ ہو، آپ کو اس بارے میں ردعمل کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔‘
’کسی کی ذاتی زندگی میں کیا چل رہا ہے کوئی نہیں جانتا، بطور فرد میں کیسی ہوں یہ کوئی نہیں جانتا ہے، مجھے لوگ صرف سکرین پر دیکھتے ہیں یا سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں۔ مجھے بھی اچھا لگتا ہے کہ لوگ میری ذاتی زندگی کے بارے میں تبصرے نہ کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہGEO ENTERTAINMENT
’شیروانی کے نیچے شارٹس‘
انمول بلوچ بتاتی ہیں کہ شوٹنگ کے دوران ان کے ساتھ کئی دلچسپ واقعات پیش آتے ہیں۔
سیانی کے شوٹ میں جب انھوں نے شادی کا سیکوئنس مکمل کر لیا، اس کے دو تین دن کے بعد وہ ایک لوکشن پر آئے جو ایک بنگلہ تھا۔ وہ دلہن کے جوڑے میں تھیں اور محسن عباس نے شیروانی پہنی ہوئی تھی۔
شیروانی کے نیچے محسن عباس نے شارٹس پہنے ہوئے تھے لیکن انمول نے سمجھا کہ انھوں نے نیچے کچھ نہیں پہنا ہوا اور یہ دیکھتے ہی انھوں نے منھ گھما لیا اور کہا کہ ’یہ کیا ہے؟‘ جس پر سب ہنسنے لگے اور ’محسن نے شیروانی ہٹائی اور کہا کہ میں نے شارٹس پہنے ہوئے ہیں جس پر ہم بہت دیر تک ہنستے رہے۔‘
انمول کے انسٹا گرام پر حالیہ فوٹو شوٹ کی تصاویر شیئر کرنے پر بھی تنقید کی گئی۔
وہ کہتی ہیں وہ ٹرولنگ پر خاموش ہو جاتی ہیں یا کچھ روز سوشل میڈیا کا استعمال ترک کر دیتی ہیں۔
’اگر ہم سوشل میڈیا پر کچھ لگا رہے ہیں تو یہ پبلک کے لیے بھی ہے ورنہ ٹی وی پر تو لوگ مجھے ہی دیکھ رہے ہیں۔ پھر مجھے انسٹا گرام اور فیس بک استعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ تبصرے نہ کریں تو اپنی پروفائل پرائیویٹ کر دیں کیونکہ آپ کسی کو رائے دینے سے روک نہیں سکتے۔‘
’تم سے کون شادی کرے گا‘
انمول بلوچ کے خاندان کا تعلق سندھ کے دیہی علاقے سے ہے۔
بقول اُن کے وہاں بجلی اورگیس کی سہولت بھی اب پہنچی ہے تاہم ٹی وی اور انٹرنیٹ کا استعمال عام نہیں ہے۔
انمول کے مطابق ان کے والد نہیں البتہ والدہ ڈرامے دیکھتی ہیں۔
’جب سیانی شروع ہو رہا تھا تو اس کے ٹیزر آئے تو وہ دیکھ کر بہت ناراض ہوئیں اور ڈانٹا کہ تم اتنی غلط لڑکی کیوں بنی ہو؟ اب تم سے کوئی شادی نہیں کرے گا کیونکہ ان کو لگےگا یہ لڑکی پیسوں کے پیچھے ہے۔‘
انمول بلوچ نے اپنے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’وہ گاؤں میں شادی اس لیے نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ وہاں پابندیاں بہت ہیں، اس قدر کے خواتین کو اپنے کپڑوں کی خریداری کی بھی اجازت نہیں ہے۔‘













